انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 55

انوار العلوم جلد ۵۵ پیغام مسیح موعود کی ادائیگی حکام کی معرفت رکھی ہے وہی لے کر مستحقین کو دیں تاکہ زکوۃ دینے والے کا لینے والے پر کوئی احسان نہ ہو۔اور اسے اس سے دینا نہ پڑے۔اس طریق سے اسلام نے دنائت کو جڑھ سے اکھیڑ دیا ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ایسے ہی وقت میں آتے ہیں جبکہ قوم میں ونائت پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ دنائت ہی تمام جھگڑوں اور فساد کی جڑھ ہوتی ہے اگر کسی انسان کا دل اس مرض سے پاک ہو تو وہ فسادوں اور جھگڑوں میں کبھی حصہ نہ لے گا اور جب دنیا صلح اور امن سے زندگی بسر کرے تو انبیاء کی بعثت کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔چنانچہ حضرت موسیٰ کی قوم کا ایک واقعہ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ کس طرح وہ دنائت کی طرف جھکتی تھی اور حضرت موسیٰ ان کو اعلیٰ خیالات کی طرف لے جاتے تھے جس میں بتایا ہے کہ نبی ایسی قوم میں مبعوث ہوتا ہے جو دنی الطبع ہو جاتی ہے اور اس کا کام ان کو اس دلدل سے نکالنا ہوتا ہے چنانچہ فرمایا ہے وَإِذْ قُلْتُمْ يَمُوسى لَنْ نَصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الاَرضُ مِنْ بَعْلِهَا وَقِثَائِهَا وَنُو مِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا ، قَالَ ا تَستَبْدِلُونَ الَّذِى هُوَ ادْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرُ، اِهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُمْ مَّا سَالَتُمْ ، وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذَّلَةُ وَالْمَسْكَنَة وَبَاء وُا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ، ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِاتِ اللهِ وَيَقْتُلُونَ النّبِيِّنَ بِغَيْرِ الْحَقِّ من ذَلِكَ بِمَا عَصَوا وَكَانُوا يعْتَدُونَ (البقرہ : (۶۲) اس آیت میں اس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ کی قوم ایک مدت تک فرعونیوں کے ماتحت رہ کر پست حوصلہ ہو گئی۔اور ان کے خیالات بہت گر گئے تو ان میں ایک نبی مبعوث ہو ا یعنی حضرت موسی۔اور وہ ان کو وہاں سے نکال کر شام کی حکومت دلانے کے لئے لایا لیکن چونکہ اس قوم کے حوصلے بہت پست تھے ان کی اصلاح کے لئے ان کو ایک جنگل میں رکھا گیا تاکہ دوسری قوموں سے الگ رہ کر موسیٰ کی تعلیم کا اثر دل میں لیں اور مدت دراز کی غلامی کے بداثر سے جو دنائت پیدا ہو گئی تھی اسے دور کریں چنانچہ : ان کو حکم دیا گیا کہ کوئی کام کاج نہ کرو شکار اور جنگل کی کھمبیاں کھاؤ۔مگر ایک مدت کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم اس ایک کھانے پر صبر نہیں کر سکتے۔پیاز ہو لہسن ہو مسور ہو گیہوں ہو۔تاکہ ہم کھائیں۔اللہ نے انہیں کہا۔کیا تم ادنی کے بدلہ اعلیٰ کو قربان کرنا چاہتے ہو ؟ اس کے یہ معنی نہیں کہ گوشت کوئی ایسی چیز ہے جس کے ہوتے ہوئے سبزی کا مانگنا ایک گناہ ہو جاتا ہے۔یہ تو ہم مانتے ہیں کہ گوشت اعلیٰ ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی اسے اعلیٰ فرمایا ہے لیکن یہ