انوارالعلوم (جلد 3) — Page 606
العلوم ۶۰۶ زندون کہا مجھے تو نہیں آتا۔اس پر پٹھان نے یہ کہہ کر کہ تمہاری قسمت ہی خراب ہے کلمہ مجھے بھی نہیں آتا چھوڑ دیا اور وہ چلا گیا۔تو اس علاقہ کے لوگ اس قسم کے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ نے انہیں کو جو قتل و غارت ، لڑائی و جھگڑے، شرارت و فتنہ میں لگے رہتے تھے لا کر حضرت مرزا صاحب کے آگے ڈال دیا۔اور صرف ڈال ہی نہیں دیا۔بلکہ ان کی بہت بڑی اصلاح بھی ہو گئی۔کیونکہ حضرت مرزا صاحب کوئی اس قسم کے پیر نہ تھے جیسے آج کل کے مسلمانوں کے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری بیعت کر کے ہمارا نذرانہ ادا کر دو پھر جو تمہارا جی چاہے کرتے پھرو سب کچھ تمہیں معاف ہے۔چنانچہ حضرت مولوی نورالدین صاحب جو حضرت مرزا صاحب کے پہلے خلیفہ تھے۔ان کے ہاں ان کی بہن آئی تو انہوں نے کہا کہ تم اپنے پیر سے جا کر پوچھنا کہ تمہاری بیعت کرنے سے کیا فائدہ ہے۔جب اس نے واپس جاکر پیر صاحب سے یہ سوال کیا تو پہلے تو انہوں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے نورالدین نے تمہیں یہ سوال سکھایا ہے اس لئے اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔مگر بتا دیتا ہوں ہماری بیعت کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ بیعت کے بعد جو تمہاری مرضی ہو وہ کرو۔قیامت کے دن ہم جب کہہ دیں گے کہ یہ ہمارے مرید ہیں۔تو پھر کوئی نہیں پوچھے گا اور تم سیدھی جنت میں چلی جاؤ گی۔تو اس قسم کی بیعتیں ہیں جو مسلمانوں کے پیر کراتے ہیں۔مگر حضرت مرزا صاحب کی بیعت ایسی نہ تھی۔اس میں شرط تھی کہ ہر قسم کی بدکاری، شرارت، حسد ، کینہ ، بغض، چوری وغیرہ افعال بد سے بچنا ہو گا۔قرآن کریم کے کسی چھوٹے سے چھوٹے حکم کو نہیں تو ڑنا ہو گا۔قتل و غمارت لوٹ مار وغیرہ برائیوں کو چھوڑنا ہو گا۔خدا کی عبادت سچے دل اور کامل فرمانبرداری سے کرنی ہوگی۔خدا کی مخلوق کے ساتھ محبت اور الفت سے پیش آنا ہو گا۔غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کرنی ہوگی۔اپنی زبان یا ہاتھ سے خدا کی کسی مخلوق کو تکلیف نہیں پہنچانی ہوگی۔ہر برے فعل سے بچنے اور اچھے عمل کرنے کے لئے تیار رہنا ہو گا۔یہ وہ شرائط ہیں جو حضرت مرزا صاحب اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے والے سے پوری کراتے تھے۔لیکن باوجود ان کے موجودہ زمانہ کے لحاظ سے اس قدر مشکل اور کٹھن ہونے کے جب ان لوگوں نے جنہیں وحشی اور جاہل سمجھا جاتا تھا آپ کی بیعت کی تو انسان بن گئے۔خود قرآن کریم پڑھا اور دوسروں کو سکھایا۔کیا یہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا معمولی نشان ہے۔پھر ہر علاقہ اور ہر ملک سے لوگ کھینچ کھینچ کر آپ کے پاس لائے گئے اور اس کثرت کے ساتھ لائے گئے کہ جن