انوارالعلوم (جلد 3) — Page 531
انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۳۱ ذکر الهی شروع کر دیتے حتی کہ سوئی ٹوٹ جاتی اور پھر پڑھنا شروع کرتے ابتداء میں تو لکڑیوں کا گٹھا اپنے پاس رکھتے تھے۔یہ غلو تھا اور میرے خیال میں اسلام اس کو پسند نہیں کرتا۔لیکن یہ ان کے اپنے نفس کے متعلق معاملہ ہے اس لئے میں ان پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرتا۔ہاں میرے نزدیک نفس کو سزا دینے کا یہ طریق ہے کہ اگر کسی رکعت میں کوئی خیال پیدا ہو تو دیکھنا چاہئے کہ کس عبارت کے پڑھتے وقت وہ خیال پیدا ہوا ہے۔جب یہ معلوم ہو جائے تو اسی جگہ سے پھر پڑھنا شروع کر دینا چاہئے۔اس طرح کرنے سے جب نفس یہ دیکھ لے گا کہ یہ تو خدا تعالٰی کی طرف ہی جھک رہا ہے اور میری نہیں مانتا تو انتشار پیدا کرنے سے رک جائے گا اور سکون حاصل ہو جائے گا۔یہ طریق ایک لحاظ سے بہت بڑا اور بہت زیادہ کام میں آنے والا ہے اور وہ اکیسواں طریق یہ کہ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون : ۴) مؤمن کوئی لغو کام نہیں کیا کرتے۔جن لوگوں کو لغو خیالات کی عادت ہوتی ہے انہیں کے دلوں میں نماز پڑھتے وقت دوسرے خیالات آتے ہیں۔لیکن اگر وہ اس طرح کریں کہ شروع دن سے ہی اس قسم کے خیالات نہ آنے دیں۔تو ان کو انتشار کی حالت پیدا ہی نہیں ہو گی۔لیکن اکثر لوگ شیخ چلی کی طرح خیالات میں پڑے رہتے ہیں۔حالانکہ ان کا کوئی فائدہ نہیں ہو تا۔ایسے خیالات جو محض قیاسی اور ظنی ہوں ان میں مشغول ہونے کے لئے نفس کو ہر گز اجازت نہیں دینی چاہئے۔ہاں مفید اور فائدہ رساں باتوں کے متعلق سوچنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔خصوصاً ان امور پر سوچنا جو پہلے ہو چکے ہوں اور ان پر اب سوچنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا فکر کرنا تو حد درجہ کی جہالت ہے۔یہ ایک ظاہر بات ہے کہ انسانی طاقتوں کو جس طرف لگایا جاوے وہ ادھر ہی متوجہ ہو جاتی ہیں۔پس جب کوئی شخص نا معقول خیالات میں دماغ کو لگاتا ہے تو پھر وہ معقول باتوں کی طرف توجہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔پس لغو خیالات سے دماغ کو روک کر اعلیٰ اور مفید خیالات پر لگانا چاہئے۔جب یہ کوشش کی جائے گی ہمیشہ مفید امور پر غور کرنے کی طرف طبیعت متوجہ اور ایک امر میں مشغول ہونے کی حالت میں دوسری طرف خیالات کو لگا دینا مفید نہیں، لغو ہے۔الا ماشاء اللہ پس ایسے شخص کا دماغ جس نے اسے مفید باتوں پر غور کرنے کی عادت ڈالی ہے نماز کے وقت ادھر ادھر جائے گا ہی نہیں۔-