انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 455

العلوم جلد ۴۵۵ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں اور ہر جگہ یہی حالت ہے۔اور بعض علاقے تو ایسے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ اسلام چیز کیا ہے۔ایک دوست نے لکھا کہ یہاں کے لوگ آج کل کوئی جانور ذبح نہیں کر سکتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مولوی نے ان کو ذبح کرنے کے لئے جو چھری پڑھ کر دی ہوئی تھی وہ گم ہو گئی ہے۔اب پھر جب وہ کوئی چھری پڑھ کر دے گا تب ذبح کریں گے۔کئی لوگ ہمارے پاس بیعت کرنے کے لئے ایسے بھی آتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کسی نشان کے ذریعہ اس سلسلہ کی صداقت سمجھا دیتا ہے لیکن کلمہ شہادت نہیں پڑھ سکتے۔ایسے لوگوں کو دیکھ کر رقت آجاتی ہے کہ اسلام کی کیا حالت ہے۔چونکہ یہ لوگ انہی لوگوں میں سے آتے ہیں جو اسلام کو بالکل فراموش کر چکے ہیں اس لئے ان کی یہ حالت ہوتی ہے۔کسی نے لطیفہ کے طور پر لکھا ہے کہ کسی پٹھان نے ایک ہندو کو پکڑ کر کہا کہ مسلمان بنو اور کلمہ پڑھو ورنہ ابھی جان سے مار دوں گا اس نے کہا۔میں کلمہ نہیں جانتا۔پٹھان نے کہا جلدی پڑھو ورنہ میں قتل کر دوں گا۔آخر کار ہندو نے مجبور ہو کر کہا اچھا تم پڑھاؤ میں پڑھتا جاؤں گا۔پٹھان نے کہا کم بخت تیری قسمت ہی خراب ہے کلمہ مجھے بھی نہیں آتا ورنہ آج تجھے میں مسلمان بنا دیتا۔کہنے والے نے تو یہ قصہ کہا ہے مگر اس وقت مسلمانوں کی حالت اسی قسم کی ہو رہی ہے کہ میرے پاس ایسے لوگ بھی آئے ہیں جن کو میں نے کئی کئی منٹ میں صرف کلمہ پڑھایا ہے۔حضرت مولوی صاحب کے وقت یہاں ایک عورت بیعت کرنے کے لئے آئی۔مولوی صاحب نے اس سے پوچھا جانتی ہو۔محمد ا کون تھے کہنے لگی۔کوئی ہوں گے ہمیں ان کا کیا پتہ ہے۔اب تو وہ دین سے خوب واقف ہے۔لیکن اس وقت اس کی حالت کیسی دردناک تھی۔یہاں ایک شخص ہو تا تھا اس سے حضرت مولوی صاحب نے پوچھا تمہارا کیا مذہب ہے۔وہ کہنے لگا میرا وہی مذہب ہے جو ہمارے گاؤں کے نمبردار کا ہے۔کیا ہی رونے کا مقام ہے۔جب میں حج کو گیا تو ہمارے ساتھ ایک شخص جس کا نام عبد الوہاب تھا اور بہت بوڑھا وہ بھی حج کو جا رہا تھا۔میں نے منیٰ میں اس سے پوچھا کہ تمہارا کیا مذ ہب ہے تو کہنے لگا کہ گھر میں جاکر اپنے مولوی سے لکھوا کر آپ کو بھیج دوں گا۔میری اس سے پوچھنے کی یہ مراد تھی کہ تم کس فرقہ کے ہو۔اس کے متعلق جب پھر میں نے پوچھا تو کہنے لگا میرا مذ ہب رحمہ اللہ ہے۔میں حیران رہ گیا۔پھر کہنے لگا جلدی نہ کرو ا چھی طرح سوچ لینے دو۔میں نے کہا اچھا سوچ لو۔تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا میرا مذ ہب اعظم علیہ ہے۔اسی طرح اس کے کبھی کوئی اور کبھی کوئی