انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 454

رالعلوم جلد ۳۰ ۴۵۴ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں یہ ہے ان کے مولویوں کی حالت۔ایک سجادہ نشین کی نسبت حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ آپ کی نسبت لوگ کفر کا فتویٰ جو تیار کرنے لگے تو اس پر اس کے دستخط کروانے کا بھی انہوں نے ارادہ کیا۔آپ اس کے پاس گئے اور جاکر کہا کہ میں نے سنا ہے آپ بھی میرے خلاف فتویٰ پر دستخط کرنے لگے ہیں اگر آپ نے ایسا کیا تو یاد رکھئے کہ میرے مرید آپ کو سلام نہیں کریں گے۔اس نے کہا تم اپنے مریدوں کو جا کر کہہ دو کہ میں دستخط نہیں کروں گا وہ مجھے سلام کرنا ترک نہ کریں۔جب لوگ اس کے پاس فتوی دستخط کرانے کے لئے لے گئے۔تو اس نے کہا کہ بھی فقیروں کا دروازہ بہت اونچا ہوتا ہے اس میں سے ہر ایک آسکتا ہے اس لئے میں تو دستخط نہیں کر سکتا۔اس کے بعد وہ سجادہ نشین صاحب خاص طور پر اس گلی میں سے گزرے جس میں حضرت مولوی صاحب رہتے تھے تاکہ معلوم کریں کہ ان کے معتقد انہیں سلام کرتے ہیں یا نہیں۔اور ایک آدمی کو آگے بھیج دیا کہ جاکر اطلاع دو کہ میں اس طرف سے گذرنے لگا ہوں۔حضرت مولوی صاحب نے اپنے ہم خیال اور دوست اہلحدیث کو کہلا بھیجا کہ اس کو سلام کر دیں کہ خوش ہو جاویں گے اور خود بھی آگے بڑھ کر اسے سلام کیا۔اس نے آپ سے کہا مولوی صاحب میں نے آپ کے خلاف فتویٰ پر دستخط نہیں کئے۔اب تو آپ کے مرید مجھے سلام کرنا ترک نہیں کریں گے۔اس قدر انہیں سلام کروانے کا شوق تھا۔میری عمر کوئی دس گیارہ برس کی ہوگی کہ میں امر تسر گیا۔اور دیکھا کہ ایک مولوی صاحب بڑی لمبی داڑھی والے جبہ پہنے اور عصا ہاتھ میں لئے جا رہے تھے اور ان کے پیچھے پیچھے ایک شخص جو اپنے لباس سے کسی دفتر کا چپڑاسی معلوم ہوتا تھا ہاتھ جوڑتا اور منتیں کرتا جا رہا تھا اور ا کہتا جاتا تھا کہ مولوی صاحب مجھ پر رحم کیجئے میں بہت مفلس اور غریب ہوں۔مولوی صاحب تھوڑی دور چل کر اس کی طرف مڑ کر دیکھتے اور کہ دیتے ہٹ دور ہو اور کوئی گالی بھی نکال دیتے۔آخر کار اس بیچارہ نے تھک کر اس مولوی صاحب کا پیچھا چھوڑا۔میں نے اس سے پوچھا کیا بات ہے۔اس نے کہا کہ میں ایک دفتر میں آٹھ روپیہ کا چپڑاسی ہوں میں نے اپنی شادی کے لئے کچھ روپیہ جمع کیا تھا اور اس شخص کو مولوی اور دیندار سمجھ کر امانتا ر کھنے کے لئے دیا ہوا تھا۔اب جو میری شادی ہونے لگی ہے اور میں اس سے وہ روپیہ مانگتا ہوں تو بات تک نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ میں تجھے جانتا ہی نہیں۔غرض اس قسم کی ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں مثالیں ہیں جو پیش کی جاسکتی ہیں۔