انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 452

لوم جلد ۳۰ ۴۵۲ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں جب ایک خادم اسلام کو دلائل کے ساتھ پھیلا سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آقا نہ پھیلا سکا ہو۔اسی طرح عملی طور پر ثابت کر کے خدا تعالیٰ نے اس اعتراض کو دور کیا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہو چکا ہے کہ اب اسلام دلائل اور براہین کے ذریعہ پھیلے۔اس لئے آپ لوگوں کو اس کے پھیلانے میں خاص کوشش اور ہمت سے کام لینا چاہئے۔یہ مت سمجھو کہ آسانی سے پھیل سکے گا۔آنحضرت نے فرمایا ہے کہ دجال کا فتنہ سب فتنوں سے بڑا ہو گا اور تمام نبی اپنی امتوں کو اس فتنہ سے ڈراتے آئے ہیں۔پھر آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا جائے گا تو وہاں سے بھی واپس لے آیا جائے گا۔یہ پیشگوئی ہے اس بات کے متعلق کہ اس زمانہ میں ایمان دنیا سے اٹھ جائے گا اور اس وقت دنیا میں ایسی تاریکی اور ظلمت ہوگی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔اس سے سمجھ لو کہ تمہارا کام کس قدر اہم اور کس قدر طاقت اور کوشش کو چاہتا ہے۔یہ مت سمجھو کہ تم میں اور غیر احمدیوں میں حیات مسیح کا مسئلہ ہی مابہ النزاع ہے۔بلکہ وہ اسلام جو آنحضرت ا کے ذریعہ دنیا کو دیا گیا تھا۔وہ ایسے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے کہ لوگ اس سے نفرت کرنے لگ گئے ہیں۔پس یہ کوئی معمولی کام نہیں بلکہ بہت بڑا ہے۔وہ بیرونی مفاسد تو الگ رہے جن کے مٹانے کے لئے ہماری جماعت کھڑی کی گئی ہے۔مسلمان کہلانے والوں کی عملی حالت کو ہی دیکھ لو کہ کس قدر گری ہوئی ہے۔میں اگر آپ لوگوں کے سامنے ان کی عملی حالت کو پیش کردوں تو میرے الفاظ وہ اثر نہیں کر سکتے۔جو آپ کو اپنے محلے کے لوگوں اپنی بستی کے لینے والوں اور اپنے علاقہ میں رہنے والوں کو دیکھ کر ہو سکتا ہے۔آپ اپنے محلہ کے لوگوں اپنے ہمسایوں اور اپنے واقف کاروں کو دیکھیں۔کیا وہ واقعہ میں مسلمان ہیں ، کیا وہ نمازیں پڑھتے، زکوۃ دیتے اور روزے رکھتے اور حج کرتے ہیں؟ کیا وہ اخلاق سے پیش آتے بدیوں سے بچتے ہیں؟ کیا یہ درست نہیں کہ ملک کے جیل خانوں میں کثرت سے مسلمان ہی بھرے ہوئے ہیں۔کیا یہ صحیح نہیں کہ بدکاریوں اور بد افعالیوں کے اڈوں پر مسلمانوں کے ہی جمگھٹے رہتے ہیں۔اور کیا یہ واقعہ نہیں کہ عیاشی اور بے دینی میں مسلمان سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔ان کے گدی نشینوں کی یہ حالت ہے کہ دین سے اس قدر دور ہو چکے ہیں کہ نہ دین کو جانتے ہیں اور نہ سیکھتے ہیں۔مریدوں سے بیعت لے کر ان سے ٹیکس وصول کرنا ان کا کام رہ گیا ہے۔مسلمانوں کے امراء ، صوفیاء ، تاجروں ، ملازموں اور زمینداروں کی حالت سخت خراب ہے۔انہیں جھوٹ سے پر ہیز نہیں بدکاریوں سے نفرت