انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 446

انوار العلوم جلد جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں رحمت کے نشان دکھلانا قدیم سے خدا کی عادت ہے۔مگر تم اس حالت میں اس عادت سے حصہ لے سکتے ہو کہ تم میں اور اس میں کچھ جدائی نہ رہے۔اور تمہاری مرضی اسکی مرضی اور تمہاری خواہشیں اس کی خواہشیں ہو جائیں۔اور تمہارا سر ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت مراد یابی اور نامرادی میں اس کے آستانہ پر پڑا رہے (یعنی یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب کوئی انعام اور ترقی ہوئی۔تو سُبْحَانَ اللہ کہنے لگ گئے۔اور جب کوئی ابتلاء یا تکلیف ہوئی۔تو ناشکری کرنے لگ گئے) تا جو چاہے سو کرے اگر تم ایسا کرو گے تو تم میں وہ خدا ظاہر ہو گا۔جس نے مدت سے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے۔کیا کوئی تم میں ہے جو اس پر عمل کرے اور اس کی رضا کا طالب ہو جائے۔اور اس کی قضاء و قدر پر ناراض نہ ہو۔سو تم مصیبت کو دیکھ کر اور بھی قدم آگے رکھو کہ یہ تمہاری ترقی کا ذریعہ ہے (بعض لوگوں کو جب کوئی ابتلاء آتا ہے۔تو وہ احمدیت کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ابتلاء ان کی ترقی کے لئے آتے ہیں) اور اسکی توحید زمین پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش کرو اور اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبر نہ کرو گو اپنا ماتحت ہو اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔بہت ہیں جو علم ظاہر کرتے ہیں مگروہ اندر سے بھیڑئیے ہیں۔بہت ہیں جو اوپر سے صاف ہیں مگر اندر سے سانپ ہیں۔سو تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے۔جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو نہ ان کی تحقیر۔اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرد نہ خود نمائی سے ان کی تذلیل۔اور امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو۔نہ خود پسندی سے تکبر۔ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔خدا سے ڈرتے رہو۔اور تقویٰ اختیار کرو اور مخلوق کی پرستش نہ کرو اور اپنے موٹی کی طرف منقطع ہو جاؤ اور دنیا سے دل برداشتہ رہو۔اور اس کے ہو جاؤ اور اس کے لئے زندگی بسر کرو۔اور ان پر