انوارالعلوم (جلد 3) — Page 391
انوار العلوم جلد ۳۹۱ پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید زیادہ تنخواہ نہیں وہ باہر اچھی ملازمت کر سکتے تھے وہ ایم۔اے پاس ہیں اور ذہین و ہوشیار ہیں جوڈیشل سروس کے علاوہ کالج کی نوکری بھی کر سکتے ہیں اور پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے ابھی اس وقت جبکہ انجمن کی حالت موجودہ حالت سے بہت کمزور تھی ریویو کی ایڈیٹری کے لئے سو روپیہ ماہوار پر ہی قادیان آئے تھے گو ایک مدت تک ان کے حسابات میں بیس روپیہ ماہوار تنخواہ دکھائی جاتی رہی ہے۔غرض یہ الزام جو پیغام صلح نے لگایا ہے اس کا ایک حصہ تو جھوٹ ہے اور دوسرا حصہ کوئی الزام نہیں اگر عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب اس جگہ کام کرنا منظور کریں تو اس میں انجمن کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہے اور بہت کم خرچ پر اس کو ایک نہایت لائق استاد مل جاتا ہے۔اور یہاں کی رہائش کو منظور کرنا ان کی قربانی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ اپنی لیاقت اور خاندانی خدمات کی وجہ سے عمدہ سے عمدہ ملازمت حاصل کر سکتے ہیں جہاں ان کو ہزار بارہ سو روپیہ ماہوار تک ترقی کرنے کی امید ہو سکتی ہے۔اور ان کے سکول میں تقرر پر اعتراض کرنے کا باعث سوائے کینے کے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔اگر وہ اس کے باوجود نہیں لگائے جاتے تو کوئی اور لگایا جاتا یا سکول کو بند کر دیا جائے اور تمام گھروں کو چلے جائیں۔دوسرا الزام یہ ہے کہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے امر تسر اور اجنالہ کے درمیان موٹر ایجنسی قائم کی ہے سو یہ الزام مجھ پر نہیں خلیفہ صاحب پر ہے میں اس کی نسبت صرف اس قدر کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات میں نے اب پیغام میں دیکھی ہے ڈاکٹر صاحب اگر قادیان میں ہوتے تو اس کا جواب وہ خود دیتے وہ اس وقت ڈلہوزی ایک ضروری کام پر گئے ہوئے ہیں وہاں سے واپسی پر وہ خود جواب دیں گے میں اس وقت بحكم آيت إِذَا جَاءَ كُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأَةُ فَتَبَيَّنُوا اور لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ صرف اس قدر کہہ سکتا ہوں کہ اصل جواب تو وہ خود دیں گے مگر میں اس الزام کو سراسر جھوٹ اور افتراء یقین کرتا ہوں اور زیادہ سے زیادہ اگر حسن ظنی سے کام لوں تو کہہ سکتا ہوں کہ شاید کوئی اور رشید الدین ہو جس نے وہ ایجنسی قائم کی ہو اور تم نے اس سے خلیفہ صاحب کو سمجھ لیا ہو لیکن زیادہ قرین قیاس تو یہی ہے کہ یہ بات تم نے اپنی طرف سے افتراء کر کے اڑائی ہے۔تیسرا الزام مجھ پر یہ لگایا گیا ہے کہ کیا میں نے اٹھارہ ہزار روپیہ کی کوئی زمین خریدی ہے اور اگر کوئی ایسی زمین خریدی ہے تو وہ روپیہ کہاں سے آیا۔امر اول کا جواب یہ ہے کہ بے شک