انوارالعلوم (جلد 3) — Page 367
۳۶۷ سیرت مسیح موعود صوبوں اور پھر دوسرے ملکوں میں بھی پھیلنا شروع ہو گیا۔اسی سال جماعت احمدیہ کے لئے ایک درد ناک حادثہ پیش آیا کہ کابل میں اس جماعت کے ایک برگزیدہ ممبر کو صرف مذہبی مخالفت کی وجہ سے سنگسار کیا گیا۔مقدمات کا سلسلہ جو جہلم میں شروع ہو کر بظاہر ختم ہو گیا تھا پھر بڑے زور سے شروع ہو گیا۔یعنی کرم دین نے پہلے وہاں آپ کے خلاف مقدمہ کیا تھا اسی نے پھر گورداسپور میں آپ پر ازالہ حیثیت عرفی کی نالش دائر کر دی۔اس مقدمہ نے اتنا طول پکڑا کہ جسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اس مقدمہ کی کارروائی کے دوران میں ایک مجسٹریٹ بدل گیا اور اس کی پیشیاں ایسے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے رکھی گئیں کہ آخر مجبور ہو کر آپ کو گورداسپور کی ہی رہائش اختیار کرنی پڑی۔اس مقدمہ کو اس قدر طول دیا گیا تھا کہ صرف تین چار الفاظ پر گفتگو تھی۔کرم دین نے آپ کے خلاف ایک صریح جھوٹ بولا تھا۔آپ نے اس کی نسبت اپنی کتاب میں کذاب کا لفظ لکھا۔جس کے معنی عربی زبان میں جھوٹا بھی ہیں اور بہت جھوٹا بھی۔اسی طرح ایک لفظ لیم ہے جس کے معنی کمینہ ہیں۔لیکن کبھی ولد الزنا کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اور اس کا زور اس بات پر تھا کہ مجھے بہت جھوٹا اور ولد الزنا کہا گیا ہے۔حالانکہ اگر ثابت ہے تو یہ کہ میں نے ایک جھوٹ بولا ہے۔اس پر عدالت میں ان الفاظ کی تحقیقات شروع ہوئی اور بعض اس قسم کے اور باریک سوال پیدا ہو گئے جن پر ایسی لمبی بحث چھڑی کہ دو سال ان مقدمات میں لگ گئے۔دوران مقدمہ میں ایک مجسٹریٹ کی نسبت مشہور ہوا کہ اس کے ہم نہ ہوں نے کہا ہے کہ مرزا صاحب اس وقت خوب پھنسے ہوئے ہیں ان کو سزا ضرور دو خواہ ایک دن کی قید کیوں نہ ہو۔جن دوستوں نے یہ بات سنی سخت گھبرائے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے اور نہایت ڈر کر عرض کیا کہ حضور ہم نے ایسا نا ہے۔آپ اس وقت لیٹے ہوئے تھے۔یہ بات سنتے ہی آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور ایک ہاتھ کے سہارے سے ذرا اٹھ بیٹھے اور اٹھ کر بڑے زور سے فرمایا کہ کیا وہ خدا تعالی کے شیر پر ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے ؟ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ دیکھ لے گا کہ اس کا کیا انجام ہوتا ہے۔نہ معلوم یہ خبر سچی ہے یا جھوٹی لیکن اس مجسٹریٹ کو انہیں دنوں وہاں سے بدل دیا گیا اور باوجود کوشش کے فوجداری اختیارات اس سے لے لئے گئے اور کچھ مدت کے بعد اس کا عہدہ بھی کم کر دیا گیا۔اس کے بعد مقدمہ ایک اور مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا۔