انوارالعلوم (جلد 3) — Page 364
العلوم جلد ۳ ۳۶۴ سیرت مسیح موعود ۱۸۹۹ء میں آپ پر ایک اور مقدمہ حفظ امن کے متعلق آپ کے دشمنوں نے قائم کیا۔لیکن اس میں بھی آپ کے دشمن سخت ذلیل اور ناکام ہوئے اور آپ کو کامیابی حاصل ہوئی۔1900ء میں آپ نے عیسائی مذہب پر ایک اتمام حجت کیا۔یعنی آپ نے لاہور کے بشپ صاحب کو خدائی فیصلہ کی دعوت دی۔مگر باوجود یکہ ملک کے نامی اخبارات نے تحریک کی مگر بشپ صاحب اس مقابلہ میں نہ آسکے۔1901ء میں مردم شماری ہونے والی تھی اس لئے ۱۹۰۱ء کے اواخر میں آپ نے اپنی جماعت کے نام ایک اعلان شائع کیا کہ ہماری جماعت کے لوگ کاغذات مردم شماری میں اپنے آپ کو احمدی لکھوائیں۔گویا اس سال آپ نے اپنی جماعت کو احمدی کے نام سے مخصوص کر کے دوسرے مسلمانوں سے ممتاز کر دیا۔۔اسی سال آپ کے بعض مخالف رشتہ داروں نے آپ کو اور آپ کی جماعت کو دکھ دینے کے لئے مسجد کے دروازہ کے آگے ایک دیوار کھینچ دی۔جس کے سبب نمازیوں کو بہت دور سے پھیرا کھا کر آنا پڑتا تھا اور اس طرح بہت تکلیف اور حرج ہو تا تھا۔جب انہوں نے کسی طرح نہ مانا تو مجبور ہو کر جولائی 1901ء میں آپ کو عدالت میں نالش دائر کرنی پڑی۔اور اگست سن مذکور میں وہ مقدمہ آپ کے حق میں فیصل ہوا اور دیوار گرائی گئی اور خرچہ مقدمہ بھی آپ کے مخالفوں پر پڑا۔لیکن آپ نے ان کو معاف کر دیا۔۱۹۰۲ء میں آپ نے ولایت میں تبلیغ اسلام کے لئے ایک ماہوار رسالہ نکالنے کا حکم دیا جو ریویو آف ریلیجز کے نام سے بفضل خدا اب تک جاری ہے۔اس کا ایک ایڈیشن انگریزی اور ایک اردو میں نکلتا ہے۔اس ریویو کے ذریعہ سے امریکہ اور یورپ میں نہایت احسن طور پر تبلیغ اسلام ہو رہی ہے اور اس کے زبر دست مضامین کی دوست دشمن نے تعریف کی ہے۔ابتداء میں علاوہ دیگر ممبران سلسلہ کے خود حضرت مسیح موعود بھی اس رسالہ میں مضمون دیا کرتے تھے جو دراصل اردو میں لکھے جاتے تھے پھر ان کا ترجمہ انگریزی رسالہ میں شائع ہوتا تھا۔ان مضامین کا پڑھنے والوں پر نہایت گہرا اثر پڑتا تھا۔اور یہی مضامین تھے جنہوں نے ریویو کی عظمت پہلے ہی سال میں قائم کر دی تھی۔اسی سال عید الاضحیٰ کے موقعہ پر جو حج کے دوسرے دن ہوتی ہے الہام الہی کے ماتحت ایک تقریر آپ نے فی البدیہہ عربی زبان میں کی۔اس وقت ایک عجیب حالت آپ پر طاری تھی اور