انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 319

العلوم -جلد ۳۱۹ نجات کی دا عمل کرتے ہو تو وہ یہی جواب دے گا کہ ہاں میں ضرور کرتا ہوں اور کبھی یہ نہیں کہے گا کہ میں اس کے خلاف کرتا ہوں۔کیوں؟ اس لئے کہ یہ کہنے سے وہ شرمندہ نہیں ہوتا وہ جانتا ہے کہ تعزیرات انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین ہیں اور انسان کوئی ایسی ہستیاں نہیں ہیں جن کے مقابلہ میں یہ کہنا نا روا ہو لیکن شریعت کے احکام کے متعلق جواب دیتے ہوئے اس کے پیش نظر خدا تعالیٰ ہوتا ہے۔اس لئے وہ انکسار اور عاجزی سے جواب دیتا ہے۔باقی رہا یہ کہ گناہ انسان کو ورثہ میں ملا یہ بات غلط ہے کہ انسانوں کو گناہ ورثہ میں ملا ہے۔اس لئے وہ گناہوں سے پاک ہو ہی نہیں سکتا۔یہ بھی غلط ہے اگر انسانوں کو ورثہ میں گناہ ملا تھا تو حضرت آدم میں کہاں سے آگیا تھا اگر اس میں اپنے طور پر آگیا تھا تو اب بھی یہ کیوں نہ مانیں کہ باقی انسانوں میں بھی اپنے طور پر آتا ہے۔پھر اگر انسان میں گناہ ورثہ کے طور پر آیا تھا۔تو اس کا اور اتنا گناہ پر سزا دینا ظلم ہے ذمہ دار انسان نہیں قرار پا سکتا۔مثلا ایک شخص حرام زادہ ہے کیا وہ اس لئے دوزخ میں ڈالا جاسکتا ہے کہ اس کی ماں نے زنا کیا تھا اور وہ پیدا ہوا تھا ہرگز نہیں کیونکہ اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔قصور اس کی ماں کا ہے۔پس جو چیز ماں باپ کی طرف سے ورثہ میں ملے۔اس کی وجہ سے کوئی انسان مستوجب سزا نہیں ہو سکتا اور جب کوئی اس طرح مستوجب سزا نہیں ہو سکتا تو تمام انسان نجات یافتہ ہوئے کیونکہ ان کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔گناہ تو انہیں ورثہ میں ملا ہے اور تمام انسانوں کی نجات اس صورت میں ہو نہیں سکتی جبکہ یہ مانا جائے کہ گناہ ورثہ میں نہیں آیا بلکہ ہر ایک انسان خود کرتا ہے۔پس عیسائیت کا یہ مسئلہ سمرے سے ہی باطل ہے۔مشاہدہ سے یہ بات بھی غلط ثابت پھر عیسائی صاحبان کے سامنے جب ہم یہ پیش ہو رہی ہے کہ کفارہ سے موروثی گناہ کرتے ہیں کہ انسان خود گناہ کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ایسے گناہ جو انسان خود کرتا ہے بخشا جاتا ہے۔ان سے تو بیچ سکتا ہے۔لیکن ورثہ کا گناہ سوائے کفارہ پر ایمان لانے کے نہیں بخشا جا سکتا۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بات بھی ضرور غلط ہے۔جس گناہ کو درہ میں آنا قرار دیا جاتا ہے۔وہ حضرت آدم نے کیا تھا جس کی یہ سزا تجویز ہوئی تھی کہ۔