انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 266

العلوم جلد ۳ ۲۶۶ اسلام اور دیگر مذاہب والدین سے نیک سلوک کرے لیکن اس کا نیک سلوک اس سلوک کی حد کو بھی نہ پہنچے جو والدین نے اس سے کیا تھا پس ایسے شخص کا سلوک نیک تو کہلائے گا لیکن وہ ان کا محسن نہیں کہلا سکتا محسن وہ تبھی کہلا سکتا ہے جب ان کے سلوک سے بڑھ کر محبت کا سلوک کرے اور والدین کے سلوک کو مدنظر رکھتے ہوئے۔دیکھو کہ اسلام نے والدین کے حق میں کیسی شاندار تعلیم دی ہے اور کیا کوئی اور بھی مذہب ہے جس نے اس رنگ میں والدین کے ساتھ سلوک کو بیان کیا ہو کہ ایک طرف تو افراط کو روکا ہو اور ایک طرف تفریط کو۔ایک طرف تو عبادت سے منع کر کے خدائے تعالیٰ کی شان کا لحاظ فرمایا اور دوسری طرف ان مذاہب کی تردید کر دی جو بیوی کا تو لحاظ کرتے ہیں لیکن والدین کی نسبت کوئی حکم نہیں دیتے اور بیاہ کے بعد بیوی کو ہی تمام تر توجہ کا مستحق قرار دیتے ہیں۔پھر فرمایا کہ اگر والدین بوڑھے ہو جائیں تو ان کو ان تک بھی نہ کہو کہ فلاں کام تمہارا ہم نا پسند کرتے ہیں۔بوڑھے ہو جانے کی شرط اس لئے لگائی گئی ہے کہ اول تو جب والدین خود کام کے قابل ہوں تو وہ اپنی اولاد پر بوجھ نہیں ڈالتے۔دوم جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے تو بوجہ بیدست و پا ہونے کے اور مختلف قسم کی بیماریوں اور ضعفوں کے پیدا ہو جانے کے اس کا مزاج چڑ چڑا ہو جاتا ہے پس فرمایا کہ اس حالت میں بھی کہ جب وہ نہایت چڑ چڑے اور ترش رو ہو جائیں اور ان کی حرکات برداشت سے باہر ہوتی جائیں تم کو چاہئے کہ ان کی کسی حرکت پر اظہار ناراضگی نہ کرو بلکہ ان کی خواہش ) اگر پوری کر سکتے ہو تو کر دو اور اگر پوری نہیں کر سکتے تو بڑی نرمی سے عرض کر دو کہ یہ بات ہماری طاقت سے باہر ہے اور جب ان سے کلام کرو تو نہایت ادب کے ساتھ کرو اور ان کے سامنے ایسے نرم ہو جاؤ کہ گویا رحمت کے مارے تم ان کے سامنے بچھے جاتے ہو اور پھر اسی پر بس نہ کرو بلکہ ان کے لئے دعا ئیں کرتے رہو کہ ان کی خدمت میں جو کچھ کو تاہی ہم سے ہوتی ہے اس کا بدلہ خدائے تعالیٰ اپنے پاس سے ان کو دے۔یہ تو وہ سلوک ہے جس کا حکم اسلام نے اولاد کو اس حالت میں دیا ہے جب وہ زندہ ہو لیکن اگر کوئی شخص مرجائے اور اس کے والدین زندہ ہوں تو پھر بھی والدین کو نہیں بھلایا اور نہ ان کے حقوق کی نگہداشت میں دوسرے رشتہ داروں کو بھلا دیا ہے۔نہ تو اسلام نے بعض مذاہب کی طرح یہ حکم دیا ہے کہ اولاد کا سب مال والدین کو دے دیا جائے کیونکہ اس طرح کئی اور رشتہ داروں کی کہ وہ بھی رحم کے مستحق ہوتے ہیں حق تلفی ہے مثلاً اگر اس کی بیوی ہو اور چھوٹے چھوٹے بچے ہوں تو وہ اس حکم کے ماتحت بالکل بے دست وپارہ