انوارالعلوم (جلد 3) — Page 264
۲۶۴ اسلام اور دیگر نه اجب پہلوؤں یعنی ایصال خیر اور دفع شر کے تمام مدارج کو اس آیت میں بیان کر دیا گیا ہے اور اس سے بڑھ کر نہ کوئی اور درجہ شفقت علی خلق اللہ کا ہے جو انسان حاصل کر سکے اور نہ کوئی باریک بدی ہے جسے انسان چھوڑ سکے پس شفقت علی خلق اللہ کے متعلق اس تعلیم سے بڑھ کر کوئی مذہب کوئی اور تعلیم پیش ہی نہیں کر سکتا کیونکہ جو آخری مقام ہے اس پر اسلام کھڑا ہے اور اس سے اوپر جانے کی انسان کے لئے گنجائش نہیں اور بڑھ کر تو کسی نے کیا پیش کرنی ہے ہم دعوئی سے کہہ سکتے ہیں کہ اس تعلیم کے برابر بھی کوئی اور مذہب کوئی تعلیم پیش نہیں کر سکتا۔اسلام نے شفقت علی خلق اللہ کے متعلق جو تعلیم اجمالی طور پر دی ہے اس کے بیان کرنے کے بعد میں اب وہ تعلیم پیش کرتا ہوں کہ جو تفصیلی طور پر شفقت علی خلق اللہ کے متعلق اسلام اپنے پیروؤں کو دیتا ہے اور سب سے پہلے وہ تعلیم بیان کرتا ہوں جو رشتہ داروں کے متعلق اسلام دیتا ہے۔۔والدین سے تعلق بنی نوع انسان میں سے دنیاوی تعلقات کے لحاظ سے سب سے بڑا تعلق انسان کو اپنے والدین سے ہوتا ہے کہ ان کو خدائے تعالیٰ نے اس کے دنیا میں لانے کا ذریعہ بنایا ہے۔والدین کی محبت جیسی پاک اور بے غرض ہوتی ہے اس کی نظیر دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔وہ اس وقت بچہ کی خبر گیری کرتے ہیں جب اسے اپنے وجود کی بھی خبر نہیں ہوتی اور وہ اپنی زندگی کے قیام کے لئے کوئی تدبیر نہیں کر سکتا ایسی حالت میں جن تکالیف سے وہ ان کی پرورش کرتے ہیں اسے صرف والدین ہی سمجھ سکتے ہیں دوسرا انسان اس کا خیال بھی نہیں کر سکتا اور یہی وجہ ہے کہ والدین جس محبت سے بچہ کی خبر گیری کرتے ہیں بچہ اس کا عشر عشیر بھی ادا نہیں کر سکتا اور بہت کم بچے ایسے ملیں گے جو اس احسان کا پورا بدلہ دے سکیں جو ان پر ان کے والدین نے کیا ہوتا ہے اسی وجہ سے اسلام نے ان کی فرمانبرداری کرنے کا سخت حکم دیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ قَضَى رَبُّكَ الَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ، اِمَا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أف ولا تنهر هُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلاً كَرِيمًا ، وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ ربِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَينِي صَغِيرًا - (بنی اسرامیل : ۲۴-۲۵) یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کا معاملہ کرد اگر ماں باپ میں سے ایک یا دونوں تمہارے جوان ہونے پر بوڑھے ہو جائیں تو ان کو اک تک نہ کہو اور کبھی اور