انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 244

اسلام اور دیگر مذاہب وم جلد ۳۰ تعلق باللہ تعلق اس مقابلہ میں سب سے پہلے ہم تعلم قلبی تعلق کن وجوہات سے پیدا ہوتا ہے اللہ کو لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اللہ تعالٰی کے ساتھ بندوں کا تعلق قائم کرنے کے لئے کیا تدبیر کی ہے مگر پیشتر اس کے کہ ہم ان تدابیر کو بیان کریں جو اسلام نے اللہ تعالٰی کے ساتھ بندوں کا تعلق قائم کرنے کے متعلق اختیار کی ہیں اس مضمون کو زیادہ سہل اور آسان کرنے کے لئے ہمیں پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ انسان کے اندر وہ کون سی مخفی قوتیں ہیں جن کے ذریعہ سے اس کا کسی اور چیز سے قلبی تعلق قائم ہوتا ہے اور کسی اپنے سے برتر ہستی کی فرمانبرداری وہ کن قوتوں کے حکم کے ماتحت کرتا ہے۔سو یاد رہے کہ انسان کا تعلق قلبی کسی دوسری شے سے صرف دو ہی جذبات کے نیچے ہو تا ہے یا محبت کی وجہ سے اور یا خوف کی وجہ سے میں قدر دوستیاں اور تعلقات ہیں ان سب پر غور کر کے دیکھ لو کہ ان کی وجہ یا محبت ہے یا خوف۔یا تو ایک چیز سے انسان کو محبت پیدا ہو جاتی ہے اور اس محبت کی وجہ سے وہ اس کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے اسے دیکھ کر خوش ہوتا ہے اس کی جدائی کو نا پسند کرتا ہے اس کے قریب ہونے کے لئے کوشاں رہتا ہے حتی کہ اپنے محبوب کے حق میں جو چیز مضر ہو یا جو اسے ناپسند ہو اس سے یہ بھی نفرت کرنے لگ جاتا ہے اور جو چیز یا جو کام اپنے محبوب کا پسندیدہ پائے یا اس سے اسے نفع پہنچتا دیکھے تو اسے خود بھی پسند کرنے لگتا ہے۔غرض محبت کی وجہ سے اپنے محبوب کی ہر پسندیدہ شے کو پسندیدہ اور ہر نا پسند شے کو نا پسند سمجھنے لگتا ہے اور محبت کی ترقی کے ساتھ اس کی حالت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ پھر اپنے محبوب کی رضا کو پورا کرنا اس کی طبیعت نامیہ ہو جاتا ہے اور یہ ایسا خیال کرتا ہے کہ گویا بعض کام اسے خود طبعاً پسند ہیں اور بعض ناپسند لیکن در حقیقت ان کاموں سے نفرت یا ان کی طرف رغبت اس محبوب کے خیالات کا عکس یا ظل ہوتی ہے۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بعض تعلق صرف خوف کی وجہ سے ہوتے ہیں اور اگر خوف جاتا رہے تو فورا وہ تعلق ٹوٹ جائے چنانچہ بعض لوگ بعض درندوں کو پالتے ہیں اور ان کو سدھا لیتے ہیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان کا تعلق ان درندوں سے صرف خوف کا ہوتا ہے اس لئے وہ ان کے پاس جاتے ہوئے کوڑایا