انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 243

1 انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۳ اسلام اور دیگر مذاہب ہوں یعنی زبان اور عمل دونوں سے اس بات کا اقرار کریں کہ انہوں نے اس کے دعادی کو بیچ پایا اور لوگ ان کی پاکیزہ زندگی اور آسمانی نصرت کو دیکھ کر سمجھ لیں کہ سچا راستہ یہی ہے جس پر یہ لوگ چلتے ہیں اور پھر آخر میں بتایا کہ جس طرح ان مسلمانوں کو جو قرآن کریم کی تعلیم پر چلتے ہیں دوسری اقوام کیلئے شاہد بنایا ہے رسول کریم ﷺ کو اس جماعت کیلئے شاہد بنایا ہے یعنی ان کے دل میں آپ کی زندگی کو دیکھ کر اسلام کی صداقت گھر کر جاتی ہے۔غرض قرآن کریم نے خود دعوی کیا ہے کہ اسلام کو دیگر مذاہب پر یہ فضیلت ہے کہ اس میں کسی بات میں افراط تفریط سے کام نہیں لیا گیا بلکہ اس کی تعلیم درمیانی ہے اور اس لئے ہر زمانہ اور ہر ملک و قوم کیلئے ہر حالت میں کار آمد ہے اور گو قرآن کریم میں اور بھی بیسیوں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں خوبیاں ایسی مذکور ہیں اور احادیث رسول کریم ﷺ میں بھی بڑی کثرت سے ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں لیکن میں اس وقت صرف ایک ایسی خوبی پر نہایت اختصار سے کچھ بیان کروں گا جس سے معلوم ہو جائے گا کہ اس وقت اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو تمام انسانی ضروریات کو را کرتا ہے اور جس کا کوئی حکم ایسا نہیں کہ کسی خاص مصلحت اور زمانہ کیلئے دیا گیا ہو اور بعد میں اس کی ضرورت نہ رہی ہو۔پس وہی ایک مذہب ہے جس کی طرف طالبان صداقت کو دو ڑنا چاہیئے اور جان بیچ کر بھی اسے خریدنا چاہئے کیونکہ نیک انسان کے لئے صداقت سے زیادہ اور کوئی چیز محبوب نہیں۔میں اس نہایت ہی مختصر مقابلہ میں زیادہ زور صرف اسلام کی خوبیوں کے بیان پر دوں گا اور دیگر مذاہب کے جو احکام کہ بگڑ گئے ہیں یا وہ ہر ایک زمانہ میں اور ہر حالت میں قابل عمل نہیں ہیں ان کی طرف صرف اشارہ کرنا کافی سمجھوں گا کیونکہ اول تو گنجائش نہیں۔دوم بعض لوگ شاید ان تفاصیل سے کسی قدر گھبرائیں۔پیشتر اس کے کہ ہم اسلام اور دیگر مذاہب کا اس خاص پہلو میں مقابلہ مذہب کی غرض کریں جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں یہ دیکھنا چاہئے کہ مذہب کی غرض کیا ہے تا غور کیا جا سکے کہ ان اغراض کے پورا کرنے میں میانہ روی کا پہلو کس مذہب نے اختیار کیا ہے۔قرآن کریم مذہب کی دو ہی غرنہیں بتاتا ہے ایک حقوق اللہ کی بجا آوری اور دوسری حقوق العباد کی نگہداشت اور دیگر مذاہب بھی اس بات میں قرآن کریم کے مخالف نہیں۔پس ہم اس مقابلہ میں ان دونوں پہلوؤں کو لیتے ہیں۔