انوارالعلوم (جلد 3) — Page 238
انوار العلوم جلد ۳۰ ٢٣٨ اسلام اور دیگر نی انب کسی اور اس ہلاکت سے ان کو بچائے۔واقعہ میں آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مختلف مذاہب کے متبعین کی ایسی ہی حالت تھی جیسا کہ ایک بلند مینار کے ارد گرد مختلف رسے لٹک رہے ہوں اور کچھ لوگ ان مختلف رسوں کو پکڑ کر اس پر چڑھنا چاہیں تو سرے پر جا کر ان کے ہاتھ چھوٹ جائیں اور ان کے گرنے میں سوائے اس کے اور کوئی روک نہ ہو کہ ان کا کوئی کپڑا رسہ کے حصہ سے لپٹ جائے اور وہ اس طرح اوندھے مونہہ ہوا میں معلق پڑے ہوئے ہوں۔مختلف زمانہ میں انبیاء نے مختلف اقوام کو روحانیت کے بلند مینار پر چڑھانا شروع کیا جس کی وجہ سے استعدادوں میں تو ترقی ہو گئی لیکن رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں انبیاء سے بعد کی وجہ سے مختلف مذاہب کے پیرو عملی اور اعتقادی حالت میں ایسے گر گئے کہ اگر اس وقت کوئی ان کو ہدایت کی طرف بلانے والا نہ آتا تو وہ بالکل ہلاک ہو جاتے اور وہ تمام کوششیں جو مختلف انبیاء نے کی تھیں اکارت جاتیں۔لیکن جیسا کہ قرآن کریم دعوئی کرتا ہے وہ دنیا کا نجات دہندہ عین وقت پر آگیا اور اس نے ان اوندھے مونہہ لٹکتے ہوئے انسانوں کو جو یوں تو مینار کے سر پر پہنچ گئے تھے لیکن اپنی موجودہ حالت میں نیچے کھڑے ہوئے انسانوں سے بھی زیادہ خطرہ میں تھے ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر اوپر اٹھالیا اور ان مختلف لوگوں کو جو مختلف جہات سے چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے مینار کی بلندی پر ایک ہی جگہ اکٹھا کر دیا اور آئندہ کیلئے سب دنیا کیلئے ایک ہی مذہب اور ایک ہی کتاب قرار پائی کیونکہ تمدن کی ترقی نے اب سب دنیا کو ایک ہی ملک کی طرح اور سب بنی نوع انسان کو ایک ہی قوم کی طرح کر دیا تھا اور وہ پہلا دن تھا جب کہ برادر مڈ آف مین (اخوت انسانی) پر اس کے حقیقی معنوں میں عمل کیا گیا اور رسول کریم ا نے حکم الہی کے ماتحت بڑے زور سے دنیا میں اعلان کیا کہ یايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ، فَا مِنوا بالله وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّنِ الَّذِى يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ كَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (الاعراف ۱۵۹) اے لوگو میں خدائے تعالی کی طرف سے تم سب کی طرف بلا استثناء کے رسول بنا کر اس خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں جس کے قبضہ میں آسمان و زمین کی بادشاہت ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔پس ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے غیب کی خبریں قبل از وقت سناتا ہے جو اسی طرح گناہ سے پاک ہے جس طرح وہ بچہ جو ابھی ماں سے جدا نہیں کیا گیا اور جو تم کو ہی ایمان و عمل کی طرف نہیں