انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 210

۲۱۰ دی۔تو اس مقصد کے لئے بھی کہ تمام دنیا ایک مذہب پر ہو جائے۔خدا تعالیٰ نے اسی طرح ایک تدبیر فرمائی ہے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپس میں تمام دنیا کو ایک مذہب پر لانے کی تدبیر لوگوں کے جھگڑے اور فساد ہوتے ہیں۔تو عام طور پر فیصلہ کا طریق یہ مقرر کیا کرتے ہیں کہ کچھ پنچ مقرر کروائے جاتے ہیں۔یا اس طرح کہ ہر ایک فریق اپنی اپنی طرف سے ایک شخص کو مقرر کر دیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ یہ جو کچھ فیصلہ کرے وہ مجھے منظور ہے۔اور کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ ایک ہی آدمی کو فیصلہ کے لئے تمام فریق منتخب کر لیتے ہیں۔دنیا کی تمام حکومتیں بھی اپنے بڑے بڑے امور کی نسبت اسی طرح فیصلے کیا کرتی ہیں کہ اپنی اپنی طرف سے نمائندے مقرر کر دیتی ہیں اور ان کا ساختہ پر داختہ منظور کرو لیتی ہیں۔خدا تعالٰی نے بھی چاہا کہ مختلف مذاہب کا فیصلہ بھی اسی طرح ہو اس لئے اس نے ایسی تدبیر کی کہ تمام مذاہب میں سے پنچ مقرر کر دیئے۔چونکہ اس کا ارادہ تھا کہ ایک دین کو سب دیوں پر غالب کرے اور ایک ہی دین پر سب کو جمع کرے اس لئے اس نے یہ تدبیر کی کہ حضرت کرشن کے پیروؤں کو کہہ دیا کہ جب دنیا میں لڑائی فساد بہت پھیل جائے گا فسق و مجود بہت بڑھ جائے گا۔اور لوگ خدا کو بھلا دیں گے تو اس وقت کرشن دوبارہ آئے گا۔اور سب بدیوں کو آکر دور کرے گا۔اسی طرح خدا تعالٰی نے بدھ مذہب کے پیرووں کو کہہ دیا کہ جب فتنہ و فساد بڑھ جائے گا اور دنیا خدا سے غافل ہو جائے گی تو اس وقت بدھ دوبارہ آئے گا اور آکر لڑائی جھگڑوں کا فیصلہ کرے گا۔اسی طرح مسیحی مذہب والوں کو ان کے مسیح نے کہا کہ اب میں جاتا ہوں لیکن اس وقت دوبارہ آؤں گا جب کہ قومیں ایک دوسرے پر چڑھیں گی اور دنیا میں فساد پھیل جائے گا۔تب میں آکر صلح کراؤں گا۔اسی طرح خدا نے آنحضرت کے مونہہ سے یہ کہلایا کہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوبِهِمُ : الجمعه : (۴) یہ رسول آخری زمانہ میں بھی آئے گا اور اس وقت کے لوگوں کو پہلوں کی طرح بنا دے گا۔غرض تمام مذاہب کے بانیوں کی طرف سے یہ کہلا دیا گیا تھا کہ ہم دوبارہ آئیں گے۔اس لئے ان کے پیروؤں نے ان کے دوبارہ آنے کی توقع رکھی۔حضرت کرشن کے پیرو اس بات کے منتظر تھے کہ کرشن آئے گا۔حضرت بدھ کے پیرو اس بات کے منتظر تھے کہ بدھ آئے گا۔حضرت مسیح کے پیرو اس بات کے منتظر تھے کہ مسیح آئے گا۔اور آنحضرت ﷺ کے پیرو اس بات کے لئے چشم براہ تھے کہ