انوارالعلوم (جلد 3) — Page 178
انوار العلوم جلد ٣٠ IZA میرے پاس دولت ہوتی تو میں بھی تم لوگوں کو دیتا۔ایک بیچ میں بول پڑا کہ کاش ال کسری کے اموال تمہارے قبضہ میں ہوتے۔اس پر چند نو مسلم عرب اس سے لڑ پڑے اور کہا کہ یہ ہمارے اموال کی نسبت خواہش کرتا ہے کہ اس کو مل جائیں۔سعید بن العاص نے سمجھایا تو اس نے کہا کہ تم نے اس کو سکھایا ہے کہ ایسی بات کہے اور اٹھ کر اس شخص کو مارنے لگے اس کی مدد کے لئے اس کا باپ اٹھا تو اسے بھی مارا حتیٰ کہ دونوں بیہوش ہو گئے۔جب لوگوں کو علم ہوا کہ اس نے قسم کا فساد ہو گیا ہے تو وہ قلعہ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔مگر سعید بن العاص نے ان کو سمجھا کر ہٹا دیا کہ کچھ نہیں سب خیر ہے اور جن لوگوں کو مار پڑی تھی انہیں بھی منع کر دیا کہ تم اس بات کو مشهور مت کرنا خواہ مخواہ فساد پڑے گا۔اور آئندہ سے اس فسادی جماعت کو اپنے پاس آنے سے روک دیا۔جب انہوں نے دیکھا کہ ہمیں والی اپنے پاس نہیں آنے دیتا تو انہوں نے لوگوں نے میں طرح طرح کے جھوٹ مشہور کرنے شروع کر لیے اور دین اسلام پر طعن کرنے لگے۔اور مختلف تدابیر سے لوگوں کو دین سے بدظن کرنے کی کوشش شروع کی۔اس پر لوگوں نے حضرت کی عثمان سے شکایت کی اور آپ نے حکم دیا کہ ان کو کوفہ سے جلا وطن کر کے شام بھیج دیا جائے۔اور حضرت معاویہ کو لکھ دیا کہ ان کی خبر رکھنا۔حضرت معاویہؓ نے نہایت محبت سے ان کو رکھا اور ایک دن موقعہ پاکر ان کو سمجھایا کہ رسول کریم ال کی آمد سے پہلے عرب کی کیا حالت تھی اسے یاد کرو اور غور کرد که خدا تعالیٰ نے قریش کے ذریعہ سے تم کو عزت دی ہے پھر قریش سے تمہیں کیوں دشمنی ہے (وہ لوگ اس بات پر بھی طعن کرتے تھے کہ خلیفہ قریش میں سے کیوں ہوتے ہیں قریشیوں نے خلافت کو اپنا حق بنا چھوڑا ہے یہ ناجائز ہے ) اگر تم حکام کی عزت و نہ کرو گے تو یاد رکھو جلد وہ دن آتا ہے کہ خدا تعالیٰ تم پر ایسے لوگوں کو مقرر کرے گا جو تم کو خوب تکلیف دیں گے۔امام ایک ڈھال ہے جو تم کو تکلیف سے بچاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قریش کا کیا احسان ہے کیا وہ کوئی بڑی جماعت تھی جن کے ذریعہ سے اسلام کامیاب ہو گیا اور باقی رہا کہ امام ڈھال ہے اور ہمیں تکلیف سے بچا رہا ہے۔سو یہ خیال مت کرو جب وہ ڈھال ٹوٹ جائے گی تو پھر ہمارے ہاتھ میں دے دی جائے گی۔یعنی خلافت اگر قریش کے ہاتھ سے نکل جائے گی تو پھر ہم ہی ہم اس کے وارث ہیں اس لئے ہمیں اس کا فکر نہیں کہ خلافت قریش کے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر کیا ہو گا۔اس پر حضرت معاویہ نے ان کو سمجھایا کہ ایام جاہلیت کی سی باتیں نہ کرو اسلام میں کسی قوم کا زیادہ یا کم ہونا موجب شرف نہیں رکھا گیا۔بلکہ دیندار و