انوارالعلوم (جلد 3) — Page 147
علوم جلد ۳۰ ۱۴۷ انوار خلافت پاک انسانوں میں داخل ہو جاؤ اور ان انعامات کے وارث بنو جو خدا تعالٰی کے پاک بندوں کو ملا کرتے ہیں۔خدا کرے ہماری جماعت کا ایک ایک فرد دین اسلام سیکھے۔اور جس طرح ہم اس دنیا میں اکٹھے ہیں اسی طرح اگلے جہان میں بھی اکٹھے ہوں۔اور خدا تعالی کی معرفت کو پائیں تاکہ جہالت کی موت نہ مریں۔آمین چونکہ وقت بہت تھوڑا ہے اس لئے ہر ایک بات کو میں بہت اختصار سے بیان کر رہا ہوں۔غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا منع ہے پھر ایک اور مسئلہ ہے جس کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔اس کے متعلق بھی میں کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے اتنی دفعہ ہی میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں۔جائز نہیں۔جائز نہیں۔میں اس کے متعلق خود کر ہی کیا سکتا ہوں۔میں بھی تو اسی کا فرمانبردار ہوں جس کے تم سب ہو۔پھر میں کیا کر سکتا ہوں اور میرا کیا اختیار ہے۔ہاں میرا یہ فرض ہے کہ میں آپ لوگوں کو حضرت مسیح موعود کا یہ حکم بار بار سناتا رہوں خود مانوں اور تم سے منواؤں۔غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق جو لوگ پوچھتے ہیں میں ان کو کہا کرتا ہوں مجھے یہ تو بتاؤ کہ جس شخص پر گورنمنٹ ناراض ہو اس کو تم لوگ گورنمنٹ کے آگے اپنی سفارش کرانے کے لئے پیش کیا کرتے ہو یا اس کو جس پر خوش ہو اور جو اس کے سامنے مقبول ہو اس کا یہی جواب دیتے ہیں کہ جس پر گورنمنٹ خوش ہو اسی کو پیش کیا کرتے ہیں۔پس اگر گورنمنٹ کے سامنے اپنا ڈیپوٹیشن (DEPUTATION) لے جانے کے لئے کسی ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی نظر میں مقبول ہو۔تو پھر یہ کونسی عقلمندی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لئے ایک ایسے آدمی کو اپنے آگے کھڑا کیا جائے جو مغضوب ہو۔یہ کوئی مشکل بات نہیں آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔اس لئے ان لوگوں کو اپنا امام نہیں بنانا چاہئے جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور مغضوب ٹھر چکے