انوارالعلوم (جلد 3) — Page 129
العلوم جلد ۳ ۱۲۹ انوار خلافت ہیں۔مسئلہ رسالت کے متعلق میں اس وقت اس قدر کہنا کافی سمجھتا ہوں۔اور اب دوسرے امور کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو آپ لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔اور وہ بھی بہت ضروری ہیں۔نبوت کے مسئلہ کے متعلق تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔اور ابھی اور بھی لکھا جائے گا۔اور جب تک خدا تعالیٰ اس روک کو ہمارے رستہ سے دور نہ کر دے گا لکھا ہی جائے گا۔لیکن ہمیں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ ہم تو دشمنان اسلام پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر پیچھے گھر سے ہی ڈنڈا لے کر مارنے والے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پہلے ہم سے لڑ لو تو پھر کسی اور سے لڑنا۔گو ہم مانتے ہیں کہ ان کا یہ سلوک ہمارے ہی گناہوں کا نتیجہ ہے تاہم وہ دن قریب آگئے ہیں جبکہ ہمارے راستہ میں کوئی روک نہیں ہوگی اور ہم خدا کے دین کو آسانی سے پھیلاتے جائیں گے۔تحصیل علم تیسری بات جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔وہ علم کا حصول ہے۔علم اور جہالت میں بہت بڑا فرق ہے۔جس طرح ایک اندھے اور سو جا کھے میں فرق ہے۔اسی طرح عالم اور جاہل میں فرق ہے۔جس طرح ایک اندھا نہیں جانتا کہ میں نجاست میں ہاتھ ڈال رہا ہوں یا کسی لذیذ اور مزیدار کھانے میں۔سانپ پکڑ رہا ہوں یا کوئی نہایت نرم اور ملائم چیز۔اسی طرح جہالت کی وجہ سے انسان بہت بری بری حرکتیں کرتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔اس لئے تباہ ہو جاتا ہے۔دیکھو وہ لوگ جنہوں نے جہالت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو نہ سمجھا وہ خدا اور انسان میں فرق نہ کر سکے۔پھر کیا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جو خود پتھر تراشتے ہیں اور خود ہی ان کے آگے گرتے اور سجدہ کرتے ہیں۔پھر ایسے بھی فرقے ہیں جو جہالت میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ عورتوں کو ننگا کر کے ان کی شرمگاہوں کی پرستش کرتے ہیں اور اس کو بہت بڑی عبادت سمجھتے ہیں۔پھر ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی اپنی ماں سے زنا کرلے تو وہ سیدھا بہشت میں چلا جاتا ہے۔البتہ اس میں وہ ایک شرط بتاتے ہیں کہ انسان ایسا کر کے پھر اس کو مخفی رکھے اور کسی کو اس کا پتہ نہ لگنے دے۔شاید تم کو یہ سن کر تعجب ہو گا کہ کیا ایسے انسان بھی دنیا میں ہوتے ہیں لیکن یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔لاہور امر تسر اور دہلی وغیرہ شہروں میں ایسے لوگ