انوارالعلوم (جلد 3) — Page 70
" فاروق کے فرائض یورپ تو اس نکتہ کا ایسا شیدا ہے کہ وہاں ہر ایک دکان کا کچھ نام رکھا جاتا ہے نام مطابق کام اور اکثر کوشش کی جاتی ہے کہ اس نام میں ہی اس دکان کا کام بھی بیان ہو جائے اور یہ کبھی نہ ہو گا کہ ایک دکان کے نام میں تو یہ ظاہر کیا جائے کہ اس میں جوتیوں کی تجارت ہوتی ہے اور در حقیقت وہاں ٹوپیوں کی تجارت ہوتی ہو غرض نام کام بتانے کے لئے رکھے جاتے ہیں اور ان ناموں کی پابندی کی جاتی ہے اور جب کسی دکان کا کام بدلنا ہوتا ہے تو پہلے اس کا نام بدلتے ہیں۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جہاں انسانوں میں اس بات کا خیال ہے کہ وہ اپنی کام خلاف نام دکان یا اپنے کارخانہ کے نام کے مطابق اپنے کاموں کو رکھتے ہیں وہاں اپنے ناموں کے متعلق ان کو اس قدر فکر نہیں ہوتی کہ ہمارا نام کیا ہے اور ہمارے کام کیا ہیں ایک دکان کا نام اگر کتب فروشی کی دکان رکھا جاتا ہے تو اس بات کی پابندی کی جاتی ہے کہ وہاں کتابیں ہی فروخت ہوں اور اگر ایک کارخانہ کا نام فلور ملز ہوتا ہے تو آٹا پینے کا ہی کام وہاں کیا جاتا ہے لیکن کتنے عبدالرحمن ہیں جو در حقیقت عبد الشیطان ہیں؟ کتنے عبد الغنی ہیں جو حرص و آز میں مبتلا ہیں ؟ اور کتنے دارا شکوہ ہیں جن کی راتیں جھونپڑیوں میں اور دن کھلیانوں میں کتے ہیں ؟ اور کتنے آسمان جاہ ہیں جن کو سر چھپانے کے لئے زمین کی کوئی غار بھی نصیب نہیں ؟ پھر کتنے اکرام الدین ہیں کہ ان کا وجود دین کے لئے بدنامی اور ذلت کا باعث ہو رہا ہے؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ لوگ کتنے ہیں؟ نہیں اور ہر گز نہیں کیونکہ ان کا گننا ناممکن ہے دنیا کے پردہ پر کوئی بستی کوئی قصبہ کوئی شہر کوئی ملک ایسا نہیں جو ان نمونوں سے خالی ہو۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ کوئی جگہ ایسی نہیں جو ان نمونوں سے پر نہ ہو مگر باوجود اس کے وہی انسان جو اپنے نام کی عزت نہیں کرتا اور اس کے مطابق اپنے کاموں کو کرنے کی فکر نہیں کرتا اس کا تمام تر زور یہ ہوتا ہے کہ اس کی دکان یا اس کے کارخانہ کا جو نام ہے اس کے مطابق اس کا کام بھی ہو کیا یہ ایک عجیب بات نہیں؟ لیکن کتنے آدمی ہیں جن کی توجہ اس طرف پھری ہو اور انہیں اس دل شکن تماشہ کا علم بھی ہوا ہو جیسے تماشہ کرنے والے انسان اور نام اور لباس پہن کر لوگوں کو دھو کا دیتے ہیں اسی طرح اکثر انسان اپنے حقیقی ناموں کو بدل بدل کر اپنے ہم جنسوں کے سامنے آتے ہیں لوگ اپنے روپیہ کو ضائع کر کے تھیٹروں میں اپنے نام بدلنے والوں کا تماشہ دیک دیکھنے جاتے ہیں لیکن نہیں سمجھتے کہ یہ تماشہ تو ہر گھر میں جاری ہے اور رات اور دن ہو رہا ہے اور پھر