انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 51

م جلد - اه پیغام مسیح موعود کریں اور دوسروں کا حق نہ دبائے کسی کو نقصان نہ پہنچائے۔لوگوں کے حقوق کو پوری طرح ادا کرے۔دوم نہ صرف یہ کہ ان کے حقوق ادا کرے بلکہ اور زیادہ احسان کرے۔سوم یہ کہ احسان اس کی طبیعت میں داخل ہو جائے اور وہ اپنی طبیعت سے مجبور ہو کر احسان کرے اور ایسے تمام افعال سے بچے جو ناپاک ہوں۔اور پھر ایسے افعال سے بھی بچے جو لوگوں کی نظروں میں ناپسند ہوں اور ان سے بھی جن میں کسی دوسرے پر ظلم ہوتا ہو۔یہ تو بنی نوع انسان کی حفاظت اور سلوک کے متعلق تھا۔باقی روح رہ جاتی ہے۔اس کے متعلق کسی خاص آیت کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔قرآن شریف کا ہر صفحہ ہر رکوع ہر سطر خدا کی عظمت اور جلال کا مظہر ہے۔یورپ کا ایک مصنف لکھتا ہے کہ محمد ( ﷺ ) نے اپنی کتاب (قرآن) میں خدا کا اتنا ذکر کیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے (نعوذ باللہ ) اسے خدا کا جنون ہے۔یہ چونکہ عیسائی ہے۔اس لئے اس نے قرآن کو آنحضرت ﷺ کی تصنیف کردہ کتاب بتا کر دنیاوی رنگ میں ایک نتیجہ نکال | لیا کہ اسے خدا کا جنون معلوم ہوتا ہے لیکن معرفت رکھنے والے لوگ اس بات سے اور ہی نتیجہ نکالتے ہیں۔غرض قرآن شریف نے نبیوں کی یہ غرض بتائی ہے کہ وہ آکر خدا کے غضب سے لوگوں کو بچائیں اور انسانوں کو آپس کے ضرر اور نقصان سے محفوظ رکھیں۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے کے طریق بتا ئیں۔پس ہر ایک نبی جو آتا ہے انہی اغراض کو لے کر آتا ہے۔اب تم اپنے دلوں میں سوچ لو کہ نبی کی تعلیم پر جہاں عمل کیا جائے۔وہاں کیا سکھ اور آرام میسر ہو سکتا ہے۔اگر دنیا نبیوں کی تعلیم پر چلنے لگے تو نہ پولیس کی ضرورت رہتی ہے نہ پہرہ داروں کی نہ فوج کی نہ آلات حرب کی کیونکہ مومن کے معنے ہی یہی ہیں کہ ایسا انسان جس میں کسی قسم کا شر اور کسی قسم کی بے حیائی نہ ہو اور فرمانبرداری کی صفت اپنے اندر رکھتا ہو۔نبی دنیا میں سب سے بڑا مصلح ہوتا ہے۔بڑے بڑے فلاسفر نبی اور فلاسفر میں فرق گزرے ہیں مگر نبیوں کے مقابلہ میں کھڑے نہیں کئے جا سکتے کیونکہ جس طرح نبیوں نے اصلاح کی ہے اس طرح وہ نہیں کر سکے۔بو علی سینا کی نسبت لکھا ہے کہ اسے ایک شاگرد نے کہا کہ اگر آپ نبوت کا دعویٰ کرتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔آپ کو یہ دعوئی سجتا ہے۔محمد ( ا ) نے (نعوذ باللہ ) یو نہی دعویٰ کر دیا۔وہ تو امی تھا۔یہ سن کر بو علی سینا چپ ہو رہا اور کچھ جواب نہ دیا۔ایک دن سردی کا موسم تھا۔اس نے تالاب میں جس کا