انوارالعلوم (جلد 3) — Page 612
انوار العلوم جلد - ۳ ۶۱۲ زنده ند فرق بھی ہے کہ جہاں ایک مسلمان اور غیر مسلمان میں مقابلہ ہو وہاں وہ مسلمان ہی کی سنے گا اور اس کے مقابلہ میں اگر ساری دنیا بھی کھڑی ہو جائے تو کبھی ان کی دعا قبول نہ کرے گا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے ساری دنیا کو چیلنج دیا مگر آج تک اسے قبول کرنے کی کسی کو جرات نہ ہوئی۔آپ نے کہا تھا کہ میں اسلام کی صداقت ثابت کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔اس لئے دوسرے مذاہب والے جن کو اپنا اپنا مذ ہب سچا ہونے کا دعوی ہے آئیں اور مجھ سے مقابلہ کریں۔اور وہ اس طرح کہ کچھ ایسے مریض لئے جائیں جن کی بیماری نہایت خطرناک ہو اور ان کو قرعہ کے ذریعہ تقسیم کر لیا جائے اس کے بعد ان کی صحت کے لئے دعا کی جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کس کی دعا خدا قبول کرتا ہے اور کس کی رد۔یعنی کس کی دعا سے زیادہ مریض اچھے ہوتے ہیں اور کس کی سے نہیں۔اگر میری دعا سے زیادہ مریض اچھے ہو گئے تو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام ہی زندہ مذہب ہے کیونکہ میں اسی پر چلتا ہوں اور اگر اس کے مقابلہ پر کسی اور مذہب کے پیرو کی دعا سے زیادہ اچھے ہو گئے تو وہی زندہ مذہب ثابت ہو جائے گا۔لیکن آج تک اس مقابلہ کے لئے کوئی نہیں آیا حتی کہ عیسائیوں کو حضرت مرزا صاحب نے بار بار اور کئی طریق سے اس طرف بلایا اور کہا کہ تمہاری کتاب میں تو لکھا ہے کہ اگر تم میں رائی کے برابر بھی ایمان ہو گا اور تم درخت کو کہو گے کہ چل تو وہ چل پڑے گا۔پھر تم کیوں میرے مقابلہ پر نہیں آتے مگر وہ نہ آئے۔جس وقت حضرت مرزا صاحب نے عیسائیوں کو بار بار مقابلہ پر بلایا۔اس وقت پانیر میں ایک مضمون نکلا تھا کہ ہمارے پادری صاحبان جو اتنی بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں وہ آج کیوں چیلنج مقابلہ کے لئے نہیں نکلتے تاکہ عیسائیت کی صداقت ثابت ہو۔مگر پھر بھی کوئی نہ نکلا۔اب آپ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ حضرت مرزا صاحب تو وفات پاچکے ہیں۔اب کس طرح مقابلہ ہو سکتا ہے۔کیونکہ آپ کا سلسلہ مٹ نہیں گیا اب بھی آپ کی جماعت موجود ہے اور ہم لوگ اس مقابلہ کے لئے تیار ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ آج بھی اسلام کی صداقت ظاہر کرنے اور اپنے پیارے بندوں کی اپنے نشانات سے تائید کرنے کے لئے اسی طرح موجود ہے جس طرح آنحضرت کے وقت قمری اور مری نشانوں سے تائید کرنے کے لئے موجود تھا اور جس طرح آنحضرت ا کے بعد آپ کے صحابہ کے وقت تائید کرتا رہا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود اور آپ کے بعد ہمارے وقت میں بھی تائید کرے گا۔اس لئے میں حضرت