انوارالعلوم (جلد 3) — Page 608
انوار العلوم جلد ۳۰ ۶۰۸ زنده ند ہونے کا ثبوت دے دیا ہے۔اگر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا تو اس کی سزا میں ایسے زلزلے آئیں گے کہ جن کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملے گی۔دیکھئے کتنا بڑا دعویٰ ہے یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی کہہ دے کہ زلزلے آئیں گے کیونکہ آتے ہی رہتے ہیں۔لیکن مرزا صاحب نے یہ نہیں کہا بلکہ ساتھ یہ شرط بھی لگادی ہے کہ ایسے خطرناک اور اس کثرت سے آئیں گے کہ دنیا میں ان کی مثال نہیں پائی جائے گی۔چنانچہ انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا کے ۱۹۱۲ء کے ایڈیشن میں تمام ان زلزلوں کی فہرست دی گئی ہے جو ۱۹۱۲ء تک آئے۔جس سے یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ ۱۶۰۰ء سے لے کر ۱۹۰۰ ء تک جتنے زلزلے ساری دنیا میں آئے ہیں ان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد حضرت مرزا صاحب کی اس پیشگوئی سے لے کر ۱۹۱۲ء تک کے زلزلوں سے مرنے والوں کی نسبت بہت تھوڑی بنتی ہے۔اور اس بارہ سال کے عرصہ میں پہلے تین سو سال کی مدت کی نسبت زلزلوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔اور ان میں ہلاک ہونے والے زیادہ ہیں۔اب جو شخص ذرا بھی غور و فکر سے کام لے۔اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی یہ پیش گوئی کوئی ڈھکوسلا نہ تھی۔اور نہ کسی انسان کی طاقت ہے کہ ایسی بات بتا سکے۔یہ محض خدا تعالی کا فعل ہے جو حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ ظاہر ہوا۔اور اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا ثبوت قرار پایا۔کیونکہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ اسلام میں ایسے لوگ ہوتے رہتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے اور خدا ان سے کلام کرتا ہے۔پس یہی مذہب اس قابل ہے کہ انسان قبول کرے۔دیکھئے کوئی انسان یہ پسند نہیں کرتا کہ اپنے باغ میں کوئی ایسا پودا رہنے قابل قبول مذہب دے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو یا جو کڑوے پھل لاوے۔اسی طرح کسی عقلمند انسان کو وہ مذہب قبول نہیں کرنا چاہئے جس سے فائدہ نہ ہو یا جس کا نتیجہ تلخ نکلتا ہو۔بلکہ اس کو اختیار کرے جس کا کوئی فائدہ ہو۔اور ایسا مذہب اس وقت سوائے اسلام کے اور کوئی نہیں ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ ان مذاہب میں بھی پہلے ایسے لوگ ہوئے ہیں جو خدا کے نبی اور پیارے تھے۔مثلاً رام کرشن وغیرہ اور عیسائت میں بھی ہوئے ہیں۔مگر اب سوائے اسلام کے اور کسی میں یہ بات باقی نہیں ہے کہ خدا سے تعلق کرا سکے۔دیگر مذاہب کی بنیاد قصہ کہانیوں پر ہے۔لیکن اسلام اپنی صداقت کے ثبوت میں گذشتہ روایات کو ہی پیش نہیں کرتا بلکہ مشاہدات پیش کرتا ہے۔اس لئے بھی قابل قبول ہے۔دیکھئے کوئی فقیر اس گھر پر کچھ مانگنے