انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 36

FY ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب حاضر ہونا ہے جہاں کسی کی سفارش یا شفاعت کام نہیں دے سکتی الا ماشاء اللہ اور جب خدا تعالیٰ کے علم سے کوئی بات مخفی نہیں۔ہمارے زمانہ میں تو وہ مشکلات نہیں پہلے زمانہ میں تو لوگوں کو صداقت کی خاطر جانیں دینی پڑتی تھیں اور بعض کو اپنے سامنے اپنی بیویوں اور بچوں کو ذبح ہوتے دیکھنا پڑتا وطن چھوڑنے پڑتے تھے جائیدادیں ترک کرنی پڑتی تھیں مگر وہ لوگ صداقت کے قبول کرنے سے انکار نہ کرتے تھے۔اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ انْ تُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - (العنکبوت : (۳) کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف ایمان کا دعوی کرنے پر ان کو چھوڑ دیا جائے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے یعنی ایسا نہیں ہو سکتا۔ایمان وہی قابل قدر اور انعام الہی کا وارث کرتا ہے جس میں انسان آزمائشوں میں ڈالا جائے اور خدا تعالیٰ کے لئے ہر ایک قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔پس مومن تو وہی ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کی قدر ہے جو اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے رازق اور اپنے مالک کے حکم کے ماتحت ہر ایک تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ہماری جماعت میں سے ہی بعض لوگ اس سلسلہ میں داخل ہونے کی وجہ سے ریاست کابل میں قتل کئے گئے اور بعض کو اپنے وطن چھوڑنے پڑے لیکن انہوں نے صداقت کو نہ چھپایا اور ایسا تو شاید ہی کوئی انسان ہو جس کو اور قسم قسم کے دکھ نہیں دیئے گئے۔اور کچھ نہیں تو فتوائی کفر کے ذریعہ سے اسے ڈرانے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔اور ایمان قبول بھی وہی ہوتا ہے جو باوجود مشکلات کے ثابت رہے۔کاش ! دنیا اس بات پر غور کرتی۔اور لوگ اس بات کو سوچتے کہ انسان اس دنیا میں نہ رہے گا۔اگر صداقت کے قبول کرنے میں اسے سخت سے سخت تکلیفیں بھی دی جائیں تب بھی وہ ایک محدود وقت کے لئے ہوں گی۔اول تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں مؤمنوں کی نصرت کرتا ہے اور اگر اس دنیا میں دکھ ہی دکھ ہو تب بھی یہ زندگی زیادہ سے زیادہ نتو سال کی سمجھ لو پھر مرتا ہے اور ایک نئے گھر میں بود و باش کرنی ہے جس کا کوئی خاتمہ نہیں پھر اس نہ ختم ہونے والے آرام کو قربان کرنا اور اس محدود زندگی کے آرام کو قبول کرنا کہاں کی دانائی ہے۔اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ رضائے الہی کے مقابلہ میں دنیا کے دکھوں اور تکلیفوں کی ہستی ہی کیا ہے۔کاش ! مسلمان اس قدر غور کرتے کہ آج اسلام خطرناک مصائب میں گرفتار ہے اور اسے پھر بڑھانے کے لئے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کو بھیجا ہے اور اس کے ہاتھ سے اسلام کے شیرازہ کو پھر باندھنا چاہا ہے اور اس جماعت میں شامل ہونے کے لئے