انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 601

العلوم جلد - ۳ 4۔1 زند جائے گا اور اس کے فضلوں کا وارث بنا دیا جائے گا چنانچہ فرماتا ہے۔يَا يُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ تَكُم مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاء لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ - (یونس:۵۸) کہ اے مومنو! یہ تمہارے لئے ایسی تعلیم بھیجی گئی ہے جو تمہارے دلوں سے بدیوں کو مٹا دے گی اور اعلیٰ اخلاق پیدا کرے گی۔اس کے بعد تمہیں خدا تک پہنچنے کا راستہ دکھلائے گی اور جو اس رستہ پر چلیں گے ان کو خدا کے فضلوں کا وارث بنادے گی۔پس جس مذہب میں یہ باتیں حاصل ہوں وہی زندہ مذہب ہو سکتا ہے دوسرا نہیں۔اور اسی کو قبول کرنا چاہئے۔اور وہ صرف اسلام ہے۔اس کا یہ دعوئی ہے کہ وحی کا دروازہ اب بھی کھلا ہے جس کے ذریعہ خدا اپنے بندوں کے ساتھ اپنی محبت اور پیار کا اظہار کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔اور ایسے انسانوں کو اپنے فضلوں کا وارث بناتا ہے اور بناتا رہے گا۔یہی غرض مذہب کی ہے اور چونکہ اسلام اسے نہایت خوبی اور عمدگی کے ساتھ پورا کرتا ہے اس لئے اس کو قبول کرنا چاہئے۔یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے۔یہ دعویٰ ہے کہ کسی مذہب کے زندہ ہونے کا ثبوت اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے سے ایسا ہو جاتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا واقعہ میں ایسا ہوا بھی ہے کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے انسان خدا کو پالیتا اور اس کا مقرب بن جاتا ہے یا نہیں؟ تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ میں ایسا ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہوا ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر صدی اور ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں سے کلام کرتا رہا ہے۔مگر اسلام کے سوادو سرے مذاہب والے کہتے ہیں کہ خدا پہلے تو بندوں سے کلام کیا کرتا تھا مگر اب کسی سے نہیں کرتا۔گویا خواہ وہ کتنی ہی کوشش کرے اب خدا سے اس کا تعلق اور اتحاد نہیں ہو سکتا اور نہ خدا اس سے بولتا ہے۔لیکن اگر کسی مذہب کی صداقت کا یہی ثبوت ہو کہ کسی زمانہ میں خدا نے اس کے پیروؤں سے کلام کیا تھا اور اب نہیں کرتا۔تو اس طرح تو ہر ایک مذہب والا کہہ سکتا ہے کہ ہمارا مذ ہب زندہ ہے اور خدا کا ہم سے ہی تعلق ہے۔لیکن تعلق کے لئے کوئی ایسی علامت ہونی چاہئے جس سے دوسروں کو بھی یقین ہو سکے۔مثلاً ایک شخص کسی کے دروازے پر جاکر دستک دے اور اندر سے کوئی جواب نہ آئے۔مگر وہ کہے کہ مالک مکان اندر بیٹھا مجھ سے بڑا خوش ہو رہا ہے تو اسے کہا جائے گا کہ اس کے خوش ہونے کی کوئی علامت تو بتلاؤ۔اندر سے آواز نہ آنا تو خوش ہونے کا نشان