انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 600

دم جلد ۳۰ زنده ناب ہے۔دیکھئے اگر ہمیں شملہ سے کا لکا جانے کی ضرورت ہو تو ہم سٹیشن پر جا کر یہ تلاش کریں گے کہ کالکا جانے والی کون سی گاڑی ہے۔نہ یہ کہ ہم وہاں یہ دریافت کرنے بیٹھ جائیں گے کہ اس گاڑی کو کس نے بنایا ہے۔اس کی لکڑی کہاں سے منگوائی گئی ہے اور کیا لکڑی ہے اور اس پر کیا خرچ آیا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ اس کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔اور ہماری غرض اور مقصد سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔اسی طرح کسی زندہ مذہب کی تلاش کرتے ہوئے اس قسم کی باتوں میں پڑنا کہ دنیا کب بنی کیوں بنی ، کس چیز سے بنی وغیرہ وغیرہ غلطی اور نادانی ہے۔کیونکہ ان باتوں کے پیچھے پڑنے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ان کا دریافت کرنا ہمیں کچھ فائدہ دے سکتا ہے۔ہمارے اندر ایک تڑپ رکھی گئی ہے۔ہمارے اندر ایک اضطرار پیدا کیا گیا ہے۔ہمیں ایک درد دیا گیا ہے۔ہم تو اس امر کا علاج چاہتے ہیں۔ہمارے اندر خدا سے ملنے کے لئے جوش موجزن ہے۔محبت بے چین کر رہی ہے۔اور تڑپ بے آرام کئے دیتی ہے۔اس لئے ہمیں تو وہ مذہب چاہئے جو خدا سے ملائے۔اس کا قرب حاصل کرائے۔اور اس کی خوشنودی کی نعمت عطا کرے۔ہمیں اس سے کیا فائدہ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ دنیا ایک ارب سال سے بنی ہے یا اس سے کیا نقصان ہے کہ ۶ ہزار سال سے اس کی ابتداء ہوئی ہے۔اسی طرح اس سے ہمیں کیا فائدہ کہ دنیا ۰ ۲ لاکھ دفعہ بنی ہے۔اور اس سے کیا نقصان کہ ایک ہی دفعہ بنی ہے۔پھر اس سے کیا فائدہ کہ تمام دنیا کے لئے شروع سے لے کر اخیر تک ایک ہی کتاب نازل ہوئی ہے یا اس سے کیا نقصان کہ نئی نئی آتی رہی ہیں۔پھر اس سے ہمیں کیا فائدہ کہ خدا نے اپنا پہلا کلام کہاں نازل کیا۔اور اس سے کیا نقصان کہ اس کا ہمیں علم ہی نہیں۔ہماری تو غرض ہی یہ ہے کہ خدا مل جائے۔جس کے حاصل کرنے کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔اگر یہ غرض کسی مذہب کے ذریعہ پوری ہو جائے تو پھر کسی اور چیز کی ہمیں ضرورت ہی نہیں۔وہی زندہ مذہب ہے اور اس کو ہمیں اختیار کرنا چاہئے۔میں نے بتایا ہے کہ مذاہب کی غرض یہ ہے کہ خدا سے اسلام ایک زندہ مذہب ہے ملائے۔اس کا قرب حاصل کرائے، اس سے اتحاد کرا دے اور بدیوں اور گناہوں سے بچائے۔جو ایسا کر دیتا ہے اس کی ہمیں ضرورت ہے اور یہ صرف اسلام ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اس کے ذریعہ تمہاری بدیاں مٹائی جائیں گی۔اور نیکیوں میں ترقی دی جائے گی خدا سے ملایا