انوارالعلوم (جلد 3) — Page 598
العلوم جلد - ۳ ۵۹۸ نجات دینے کے لئے خدا نے ایک بے گناہ اور معصوم انسان کو قتل کر دیا۔تو غور کرو کہ اس سے اس کے دل پر کیا اثر ہو گا اور خدا کی طرف سے اس کے دل میں کس قدر نفرت پیدا ہو جائے گی۔پین ایک انگریز گذرا ہے جس نے فری تھنکہ مذہب نکالا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ میں ایک دفعہ اپنے باپ کے ساتھ گر جا گیا۔اور پادری صاحب سے سنا کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو ہماری خاطر قربان کر دیا۔میں بھی چونکہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا مجھے پادری صاحب کی یہ بات سن کر سخت نفرت اور خوف پیدا ہوا اور میں نے خیال کیا کہ اگر ایسا ہی سلوک مجھ سے میرا باپ کرے پھر کیا ہو۔یہ خیال میرے دل میں ایسا بیٹھا کہ میں گر جاسے بجائے گھر جانے کے بھاگ کھڑا ہوا۔اور امریکہ چلا آیا۔واقعہ میں ایسے خدا کو کوئی انسان ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔جو اس قدر مجبور اور اتنا ظالمانہ فعل کرے۔کیونکہ جب ہم انسان ہو کر دوسروں پر رحم کرتے ان کی غلطیوں کو معاف کرتے ان کو انعام دیتے اور اپنے قصور واروں کے قصور بخشتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ خدا اپنے گنہگار بندوں کو نہ بخشے اور اس کے لئے اسے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کرنا پڑے۔اس بھیانک نظارہ کو اپنے سامنے رکھئے کہ ایک انسان ہے وہ اقرار کرتا ہے کہ مجھ سے فلاں گناہ ہو گیا۔اس کے بعد اسے پشیمانی ہوئی مگر وہ جانتا ہے کہ خواہ میں کتنا ہی روؤں چیخوں اور خدا کے حضور ماتھا رگڑوں خدا اس گناہ کو معاف نہیں کرے گا اور میں اس کی سزا سے کسی - صورت میں بھی نہیں بچ سکتا۔اس سے اس کے دل میں خدا سے کتنی نفرت پیدا ہو گی۔مگر اسلام کہتا ہے۔فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ اِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ( المائدہ:۴۰) کہ جو گناہ کرنے کے بعد توبہ کرتا ہے اور صرف تو بہ ہی نہیں کرتا بلکہ اصلاح کے لئے بھی کوشش کرتا ہے اس کے گناہ بخشے جاسکتے ہیں کیونکہ اللہ بخشنے والا رحیم ہے۔یہ ہے وہ تعلیم جو انسان کو اپنی اصلاح کا موقع دیتی اور اسے نیکیاں کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔پھر اسلام کے مقابلہ میں ایک اور مذہب ہے جو اپنے زندہ ہونے کا دعویدار ہے۔مگر وہ بھی کہتا ہے کہ پر میشور کسی انسان کو ہمیشہ کی نجات نہیں دیتا بلکہ ایک مدت کے بعد بلاوجہ جو نوں کے چکر میں ڈال دیتا ہے۔اور اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ چونکہ انسان کے اعمال محدود