انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 597 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 597

۵۹۷ زندان العلوم جلد ۳۰ بندوں کو ایسی تعلیم دے جس پر وہ عمل نہ کر سکیں اور جو ان کی طاقت اور ہمت سے بڑھ کر ہو۔دیکھئے ایک انجینئر مکان تعمیر کراتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کی دیواریں کتنی مضبوط اور کس قدر بوجھ سہار سکتی ہیں اس لئے وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا کہ اتنے وزنی گاڈر ان پر رکھ دے جن کا بوجھ نہ سہار سکیں اور گر پڑیں۔پس جب ایک انجینئر ایسا نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ جو انسان کی طاقت اور ہمت کو خوب جانتا ہے وہ کہاں ایسا کر سکتا ہے کہ اس پر اس قدر بوجھ رکھ دے جسے وہ اٹھا ہی نہ سکے اور دب کر رہ جائے۔مگر یہ مذاہب بتاتے ہیں کہ ان میں ایسی تعلیم پائی جاتی ہے جس پر دنیا کا کثیر حصہ عمل نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لئے عمل کرنا نا ممکن ہے۔پس یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ مذاہب خدا کی طرف سے نہیں ہیں اور جب خدا کی طرف سے نہیں ہیں تو زندہ مذہب بھی نہیں کہلا سکتے۔بلکہ مردہ ہیں اور مردہ کو گلے ڈالنا کسی عقلمند انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔یہ تو ایک طریق سے ثابت ہوا ایک اور طریق سے زندہ اور مردہ مذہب کی پہچان کہ جن مذاہب کو اسلام کے - مقابلہ میں زندہ مذہب ہونے کا دعویٰ ہے وہ زندہ نہیں بلکہ مردہ ہیں اب ان کے مردہ ثابت کرنے کا ایک دوسرا طریق ہے۔اور وہ یہ کہ ایک مذہب جو بجائے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرانے اور اس سے قریب کرنے کے اس سے دور کر دے وہ بھی زندہ مذہب نہیں ہو سکتا۔اس کے متعلق بھی جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے سوا باقی سب مذاہب بعض ایسی تعلیمیں رکھتے ہیں کہ جن پر عمل کرنے کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔مثلاً عیسائیت میں بتلایا گیا ہے کہ خدا کسی پر رحم نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی کے گناہ معاف کر سکتا ہے خواہ وہ کتنی ہی آہ و زاری کرے اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا پورا پورا یقین دلائے۔اس عقیدہ کی وجہ سے پھر یہ بات بنانی پڑی کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو لوگوں کے گناہوں کے عوض قربان کر دیا اور اس طرح انہیں نجات دی۔مگر یہ عقیدہ رکھ کر کوئی انسان گناہ سے نہیں بچ سکتا کیونکہ جب وہ یہ دیکھے گا کہ خدا میں اتنی بھی طاقت نہیں ہے کہ میرے گناہ بخش دے اور وہ مجھ پر باوجود میری کچی تو بہ اور عاجزی کے اتنا بھی رحم نہیں کر سکتا کہ میری گذشتہ برائیوں کو ڈھانپ دے بلکہ سزا ہی دے گا تو پھر میرے لئے سوائے اس کے اور کیا چارہ ہے کہ جو جی چاہے کرتا رہوں۔اور جہاں پہلے گناہوں کی سزا پاؤں وہاں ان کی بھی پالوں۔پھر جب اسے یہ بتایا جائے گا کہ انسانوں کو