انوارالعلوم (جلد 3) — Page 574
۵۷۴ ہیں وہ اس روحانی سورج کو کہاں دیکھ سکتے ہیں۔ان کا حال تو ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ مہ نورے فشاند و سگ بانگ می زند - یہ لوگ خوب یاد رکھیں کہ زلزلوں کا لانا بھی خدا تعالیٰ کی طاقت سے باہر نہیں۔چنانچہ اسی دن کہ میرے پاس یہ اشتہار پہنچا جس میں حضرت صاحب کی اس پیش گوئی سے استہزاء کیا گیا تھا اور جسے پڑھ کر میرے دل میں درد پیدا ہوا رات کے وقت ایک سخت دھکا آیا۔اور گو اب تک تفصیلی حالات معلوم نہیں ہوئے مگر جہاں تک معلوم ہوا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زلزلہ بھی سخت تھا۔بلکہ بعض لوگوں کے خیال میں ۴۔اپریل کے زلزلہ سے سخت محسوس ہو تا تھا۔چنانچہ دھرم سالہ سے ایک صاحب لکھتے ہیں۔" آج قریبا ۳ بج کرے امنٹ پر بوقت رات نہایت سخت زلزلہ آیا۔اور قریباً نصف منٹ تک زمین برابر تھراتی رہی اور تمام مکان پھٹ گئے۔اور اکثر مکان اور دکانات گر گئیں۔اور نیکہ چوہلہ کے تمام مکانات گر گئے اور باغیچہ ٹوا کے مکانات گر جانے سے ایک آدمی دب کر مر گیا اور کچھ زخمی ہوئے۔" پھر لکھتے ہیں " یہ زلزلہ ۴۔اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ سے زیادہ ہوا۔" یہ حال تو ابھی مجمل ہے جب تفصیلات شائع ہوں گی تو نہ معلوم کیا حال ظاہر ہو گا۔مگر جس قدر بھی اس وقت تک معلوم ہو سکا ہے وہ بھی غافلوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔اور اس میں بھی دو نشان ہیں۔ایک تو یہ کہ حضرت مسیح موعود کی پیش گوئی کہ بار بار زلزلے آئیں گے پوری ہوئی اور دوسرے یہ کہ بعض دریدہ دہنوں کے اعتراضات کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فوراً ہی اس الہام کو پورا کیا اور بتایا کہ نادانو! میرے پاس زلزلہ بھی ہے۔اور اس ملک کے لوگ زلزلوں کے دھکے کھا کر اپنی شوخی چھوڑنا چاہتے ہیں تو میں اس کے لئے بھی تیار ہوں۔یہ گمان مت کرو کہ زلزلے تو آیا ہی کرتے ہیں۔کیونکہ یہ گمان سخت خطرناک ہے بہت سی قو میں ایسا گمان کر کے ہلاک ہو چکی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ تبِي إِلَّا اخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَاسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَرَعُونَه ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَة الْحَسَنَةَ حَتَّى عَفَوْا وَ قَالُوا قَدْ مَسَّ بَاءَ نَا الصَّرَاءُ وَالسَّرَاء فَا خَذْنَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (الاعراف: ۹۶۹۵) یعنی ہم نے کبھی کوئی رسول کسی بستی کی طرف نہیں بھیجا کہ اس کے بھیجنے کے ساتھ ہی وہاں کے لوگوں کو مالی و بدنی مصائب میں گرفتار نہ کیا ہو۔اور اس سے غرض ہماری یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگ خدا کے حضور عاجزی کریں۔پھر ہم بدل دیا کرتے ہیں تکلیف۔