انوارالعلوم (جلد 3) — Page 553
انوار العلوم جلد ۵۵۳ زندہ خدا کے زبردست نشان۔نشان دکھائے ہیں جیسا کہ وہ پہلے نبیوں کے ہاتھوں پر دکھاتا رہا ہے۔اس نے دعائیں کیں اور خدا تعالیٰ نے اس کی دعاؤں کو قبول کیا۔وہ مریض جن کی شفاء سے تمام طبی قواعد قاصر تھے اس کے ہاتھوں سے اچھے ہوئے۔اور وہ اخبار جو اس نے قبل از وقت تمام دنیا میں شائع کی تھیں بعینہ پوری ہو ئیں۔حالانکہ غیب کی اخبار کثرت سے سوائے رسولوں کے اور کسی پر ظاہر نہیں ہوتیں۔جیسا کہ تمام ادیان کا اتفاق ہے۔قرآن فرماتا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدَاهُ إِلَّا مَن ارْتَضَى مِنْ رَسُولِ (الجن : ۲۸۴۲۷) " خدا تعالیٰ اپنے غیب پر غالب نہیں کرتا مگر جس کو چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے اسی طرح سے بائبل کہتی ہے ”جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کھی۔بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔تو اس سے مت ڈر۔راستثناء باب ۱۸ آیت ۲۲ مطبوعه ۹۳ه اے صداقت کے طالبوا اور حق کے متلاشیو! میں کس طریق پر تم کو سمجھاؤں کہ وہ مسیح موعود اور مہدی اور کرشن اور میود بھی اور بدھ جس کا وعدہ مختلف مذاہب میں دیا گیا تھا۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ کے وجود میں پورا ہو چکا ہے۔اور اب قیامت تک ان پیشگوئیوں کا کوئی اور مصداق پیدا نہ ہو گا۔میں کس طرح تمہارے دلوں میں یہ بات ڈالوں کہ خدا کے ماموروں کی شناخت ایک ایسی نعمت ہے جس کے مقابلہ میں کوئی دنیاوی نعمت نہیں ٹھر سکتی۔میں کن الفاظ میں تمہیں بتاؤں کہ جو شخص خدا سے جنگ کرتا ہے اس کا کبھی اچھا نہیں ہوتا۔اور یہ کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے رسولوں کا انکار کرتا ہے وہ در حقیقت خدا تعالیٰ کا انکار کرتا ہے۔آہ میں کس بل کے ذریعہ سے تمام دنیا کے سوئے ہوئے لوگوں کو جگاؤں تا وہ دیکھیں کہ خدا کا سورج نصف النہار پر آگیا ہے۔دنیا کا بیشتر حصہ خدا کے بعض گزشتہ نبیوں کے ماننے کا دعویدار ہے۔مگر افسوس کہ ایسے بہت کم لوگ ہیں جنہوں نے کبھی اس بات پر غور کیا ہو کہ وہ ان نبیوں کو کیوں مانتے ہیں۔اگر وہ اس بات پر غور کرتے تو جو دلائل وہ ان نبیوں کی صداقت کے معلوم کرتے ان ہی دلائل کے اس زمانہ کے رسول کی شناخت نہایت آسانی سے ان کو حاصل ہو جاتی۔مگر افسوس کہ اس زمانہ میں حقیقی ایمان کی جگہ وراثتی ایمان نے لے لی ہے۔اور اگر وہی نبی جن کو مختلف اقوام مان رہی ہیں اس وقت انہی دلائل کے ساتھ جو ان کے ظہور کے وقت ان کو ملے تھے واپس آجا ئیں تو ان کے ماننے والے ان کا بھی مقابلہ کرنے لگیں يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَا تِيْهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا انجام را بِهِ