انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 536

انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۳۶ ذکراتی تم کرتے ہو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔جیسا کہ پہلے میں نے بتایا ہے نماز بھی ذکر اللہ ہے۔اس سے ثابت ہو گیا کہ ذکر اللہ بدیوں اور برائیوں سے روکتا ہے۔کیوں ؟ اس لئے کہ ذکر اللہ ایک بڑی بھاری چیز ہے اس کو جب شیطان کے سر پر مارا جائے گا تو وہ مرجائے گا اور برائیوں کی تحریک نہیں کرے گا۔پانچواں فائدہ یہ ہے کہ دل مضبوط ہوتا ہے مقابلہ کی طاقت پیدا ہوتی ہے انسان ہارتا نہیں بلکہ مقابلہ میں مضبوطی سے کھڑا رہتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( وقال : ۴۶) اے مسلمانو جب کسی طاقت کے مقابلہ میں جاؤ اور وہ زبر دست ہو تو اس کے لئے یہ کیا کرو کہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا شروع کر دیا کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے دشمن کے پاؤں اکھڑ جائیں گے اور تم اس پر فتح پالو گے۔چھٹا فائدہ یہ ہے کہ ذکر کرنے والا انسان اپنے ہر مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے بشرطیکہ وہ سچے دل سے ذکر کرتا ہو۔اس کا ثبوت بھی اسی آیت سے نکلتا ہے۔جو میں نے پانچویں فائدہ شاهرود کے متعلق پڑھی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ اذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ الله تعالى کا ذکر کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ساتواں فائدہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن سات آدمیوں کے سر پر خدا کا سایہ ہو گا۔(سنن الترمذی ابواب الترصد باب ماجاء في الحب في الله اور ان میں سے ایک ذکر کرنے والا ہو گا۔رسول کریم و فرماتے ہیں کہ وہ ایسا خطرناک دن ہو گا کہ تمام نبی ڈرتے ہوں گے اور خدا تعالیٰ اس دن ایسا غضبناک ہو گا جیسا کبھی نہیں ہوا۔کیونکہ تمام شریر لوگ اس کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔سورج بہت قریب ہو جائے گا۔ایسی حالت میں جس پر خدا تعالیٰ کا سایہ ہو گا سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کیسا خوش قسمت ہو گا۔آٹھواں فائدہ یہ ہے کہ ذکر کرنے والے کی دعا قبول ہو جاتی ہے۔قرآن کریم میں جو دعا ئیں آئی ہیں ان سے پہلے ذکر یعنی تسبیح اور تحمید بھی آئی ہے۔پہلی دعا سورۃ فاتحہ ہی ہے۔اس کو بِسمِ اللهِ NOKAKLAND ON NNOUN: NONGUAGE للهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0 سے شروع کیا ہے۔اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کو درمیان میں رکھا ہے۔جو آدھی خدا تعالیٰ کے لئے اور آدھی بندہ کے لئے ہے۔پھر اهْدِنَا القِرَاط