انوارالعلوم (جلد 3) — Page 535
العلوم جلد ۳۰ ۵۳۵ ذکرانی جَنَّتِ عَدْنٍ ، وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللهِ اكبر را توبه : ۷۲) کہ سب سے بڑا انعام رضوان اللہ ہے۔چونکہ اکبر کا انعام بھی اکبر ہی ہو سکتا ہے۔اصغر نہیں۔اس لئے ان دونوں اکبروں نے بتا دیا کہ رضوان اللہ کس کے بدلہ میں ملتی ہے۔ذکر اللہ کے بدلہ میں اس آیت میں خدا تعالیٰ نے دوسرے انعامات کو بیان فرما کر وَ رِضْوَانُ مِنَ اللهِ اَكْبَرُ سے جلا دیا کہ رضوان کوئی اور نئی چیز ہے اور یہ سب سے اکبر ہے اور واقعہ میں بندہ کے لئے سب سے بڑا انعام یہی ہے کہ اللہ اس پر راضی ہو جائے۔اس بڑے انعام کو حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے فرما دیا کہ ذکر اللہ کرد گے تو یہ دوسرا اکبر جو رضوان اللہ ہے مل جائے گا۔دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللهِ ، اَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ( الرمن (٢٩) قلوب کو ذکر سے طمانیت حاصل ہوتی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ گھبراہٹ اس وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ انسان یہ سمجھے کہ میں اس مصیبت سے ہلاک ہونے لگا ہوں اور اگر اسے یہ یقین ہو کہ ہر ایک مصیبت اور تکلیف کا علاج ہے تو وہ نہیں گھبرائے گا۔پس جب کوئی شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اللہ غیر محدود طاقتیں رکھتا ہے اور ہر قسم کی تکلیفوں کو دور کر سکتا ہے تو اس کا دل کہتا ہے کہ جب میرا ایسا خدا ہے تو پھر مجھے کسی مصیبت سے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔وہ خود اس کو دور کر دے گا اس طرح اس کو اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ذکر کرنے والے بندہ کو خدا تعالیٰ اپنا دوست بنا لیتا ہے اور اسی دنیا میں اسے اپنی بارگاہ میں یاد کرتا ہے۔فَاذْكُرُونِی اذْكُرُكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (البقره: (۱۵۳) اے میرے بندو! تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔خدا تعالیٰ کا یاد کرنا یہی ہے کہ اپنے حضور باریابی بخشتا ہے۔جس طرح دنیا میں بادشاہ کا کسی کو یاد کرنا یہی ہوتا ہے کہ اس کو اپنے دربار میں بلاتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ بھی کرتا ہے۔چوتھا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کا ذکر انسان کو بدیوں سے روکتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اُتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الكِتبِ وَأَقِمِ الصَّلوةَ ، إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ، وَ لَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ ، وَ اللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (العنكبوت :(٢٦) رسول کریم کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تجھ کو خدا نے جو کتاب دی ہے وہ لوگوں کو پڑھ کر سنا اور نماز کو قائم کر۔نماز بدیوں اور برائیوں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر کرنا بہت بڑا ہے اور جو کچھ