انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 533

انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۳۳ ذکرالی اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر گری ہوئی تھی اور وہ عبادت میں ایسا مشغول تھا کہ گویا اس دنیا سے غائب تھا۔ غرض السلام علیکم کا کہنا نماز کے خاتمہ پر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مؤمن کو چاہئے کہ ہوشیار ہو کر اپنی نماز کی حفاظت کرے کیونکہ اس وقت وہ خدا تعالی کے دربار میں حاضر ہوتا ہے۔ اسی لئے خدا تعالٰی نے بھی فرمایا ہے ۔ وَهُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (الانعام ) (۹۳) مؤمنوں کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کرتے ہیں۔ یعنی شیطان ان کی نمازوں کو خراب کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس کے حملوں سے اسے اچھی طرح بچاتے ہیں۔ پس ہر ایک کو چاہئے کہ اپنی نماز کی حفاظت کرے اور جب نماز پڑھنے کھڑا ہو تو یہ سمجھے کہ خدا کے حضور چلا گیا ہوں۔ اور جب نماز ختم کرے تو اپنے دائیں اور بائیں لوگوں کو بشارت دے کہ میں تمہارے لئے سلامتی لایا ہوں۔ لیکن اگر کوئی شخص خدا کے حضور نہیں جاتا بلکہ اپنے خیالات میں ہی مشغول رہتا ہے تو اسے سوچنا چاہئے کہ جب وہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہتا ہے تو کس قدر جھوٹ بولتا ہے۔ وہ لوگوں کو بتانا چاہتا ہے کہ میں خدا کے حضور سے آ رہا ہوں حالانکہ وہ وہاں گیا ہی نہیں تھا۔ پس آپ لوگوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ پوری طرح اپنی نماز کی حفاظت کریں اور شیطان سے خوب مقابلہ کرتے رہیں جو آپ کو خدا کے حضور سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور یاد رکھیں کہ اگر آپ ساری نماز میں بھی اس سے مقابلہ کرتے رہیں گے اس کے آگے گریں گے نہیں تو خدا تعالٰی آپ کو اپنے دربار میں ہی سمجھے گا۔ لیکن اگر گر جائیں گے تو خدا تعالیٰ بھی آپ کا ہاتھ چھوڑ دے ڑ دے گا۔ اس لئے آپ کو مقابلہ ضرور کرتے رہنا چاہئے۔ اگر اس طرح کریں گے تو آخر کار آپ ہی کامیاب ہوں گے۔ اور ذکر اس وقت تک میں نے تین قسم کے ذکروں کا بیان کیا ہے۔ اول نماز۔ دوم قرآن ذکر جہری کریم ۔ سوم وہ اذکار جو نماز کے علاوہ کئے جاتے ہیں لیکن علیحدگی میں کئے جاتے ہیں۔ اب ایک قسم کا ذکر باقی رہ گیا ہے اور وہ ذکر ہے جو مجالس میں کیا جاتا ہے۔ اس ذکر کے بھی دو طریق ہیں۔ کہ اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ جہاں ملنے کا موقعہ ملے وہاں بجائے لغو اور اول یہ طریق بیہودہ باتوں کے خدا تعالی کی طاقتوں، اس کے جلال اور اس کے احسانات کا ذکر کیا جاوے اس کی آیات کا بیان ہو اس سے دل صاف ہوتا ہے اور قلب پر نہایت نیک اثر پڑتا ہے۔ رسول کریم سے مروی ہے کہ ایک دفعہ آپ گھر سے باہر تشریف لائے تو