انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 29

۲۹ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب ہے اور صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ (مسلم کتاب المساجد ومواقع الصلاة باب الصلوة في الرحال في المطر ) كا حکم ہے۔جب اس چھوٹی سی وجہ کے پیدا ہونے سے نماز با جماعت کو ترک کیا جا سکتا ہے تو جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو وہاں یہ عذر کیونکر پیش کیا جا سکتا ہے کہ احمدی ہو کر نماز با جماعت ترک کرنی پڑے گی جس خدا نے نماز با جماعت کا حکم دیا ہے اس نے اپنے مسیح کی معرفت یہ حکم دیا ہے کہ اب غیر کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔پس اگر مسیح موعود سچا ہے تو اب ثواب اس میں ہے اور وہی نماز قبول ہے جو علیحدہ پڑھی جائے نہ وہ جو غیر احمدی کے پیچھے۔اس جگہ یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ شریعت اسلام تو کامل ہو چکی ہے اب یہ نیا حکم کیونکر جاری ہوا کیونکہ یہ کوئی نیا حکم نہیں۔حضرت مسیح موعود اگر یہ حکم دیتے کہ نماز باجماعت پڑھنی جائز نہیں تب بے شک ایک نیا حکم ہو تا لیکن آپ نے تو یہ حکم دیا ہے کہ غیر احمدی کے پیچھے جائز نہیں اور یہ حکم نیا نہیں نماز با جماعت سے تو آپ نے نہیں روکا۔احمدی آپس میں نماز باجماعت پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر جو شخص احمدیت قبول کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اکیلا نہیں رکھتا بلکہ اس کے لئے جماعت کا سامان پیدا کر دیتا ہے۔آپ غور فرمائیں کہ اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص جو نماز پڑھا رہا ہے وہ ناپاک ہے اور بلا غسل نماز پڑھا رہا ہے یا بلا وضو تو آپ اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے ؟ کبھی نہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ امام تو احکام اسلام کو توڑ رہا ہے اس کے پیچھے نماز کی قبولیت کیا ہوگی۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِهِ - مات مِيتَةً جَاهِلِيَّة (كشف الغمة عند ٣ ٥ ٣٣ اب جو شخص امام وقت اور مسیح موعود کو قبول نہیں کرتا وہ کس قدر خدا تعالیٰ سے دور ہے حتی کہ آنحضرت ا جو انسانوں میں سے اصدق الصادقین ہیں اس کی موت کو اسلام سے پہلے کے کفار کی موت کی طرح قرار دیتے ہیں۔پس جو شخص آنحضرت ﷺ کو قبول کرتا ہے اور پھر حضرت مسیح موعود کی صداقت کو قبول کرتا ہے وہ آپ کے منکر کے پیچھے کس طرح نماز پڑھ سکتا ہے کیونکہ نماز کا امام تو سب جماعت کا قائم مقام ہوتا ہے پھر کیا خدا تعالیٰ کے حضور اپنی التجاؤں کے پیش کرنے کے لئے انسان اس شخص کو آگے کر سکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہے اس شخص کو اینہ امام بنا نا گویا اپنی دعاؤں کو بھی قبولیت سے محروم رکھنا ہے۔گورنمنٹ کے پاس لوگ ڈیپوٹیشن بھیجتے ہیں تو یہ دیکھ لیتے ہیں ایسا شخص ڈیپوٹیشن کا رئیس ہو جس سے حکام خوش ہوں اور کبھی ڈاکو یا مجرم کو آگے نہیں کرتے کیونکہ اس سے انہیں خطرہ ہوتا ہے کہ اگر درخواست قبول ہونی بھی ہو گی تو نہ ہو گی اسی