انوارالعلوم (جلد 3) — Page 526
انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۲۶ ذکر الهی وہ ہے جو رسول کریم ﷺ نے بتایا ہے مگر اس میں اکثر لوگ کو تاہی جب بارہواں طریق کرتے ہیں۔ وہ طریق یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ج؟ کوئی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو اپنی نظر سجدہ کرنے کی جگہ کی طرف رکھے۔ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کھڑے ہو کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہماری توجہ قائم رہے گی حالانکہ توجہ آنکھیں کھلی رکھنے سے قائم رہ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ا نے فرمایا ہے کھڑے ہونے کے وقت سجدہ کرنے کی جگہ پر نظر ہونی چاہئے۔ حضرت شهاب الدین صاحب سهروردی اپنی کتاب عوارف المعارف میں تحریر فرماتے ہیں کہ رکوع میں دونوں پاؤں کے درمیان نظر رکھنی چاہئے اور میرے نزدیک یہ درست ہے۔ اس طرح کرنے نظر کو بھی فائدہ پہنچتا ہے اور خشوع بھی زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ نظر کے محدود کرنے میں ایک بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ انسان کی پیدائش میں خدا تعالٰی نے یہ بات ودیعت کی ہے کہ اگر اس کی ایک جس کام کر رہی ہوتی ہے تو باقی حسیں بے حس ہو جاتی ہیں۔ مثلاً جس وقت آنکھیں کمال مصروفیت میں ہوں اس وقت کان بے حس ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ جس وقت آنکھیں پوری پوری طاقت کے ساتھ کسی چیز کے دیکھنے میں مشغول ہوں اس وقت اگر کوئی آواز دے تو وہ سنائی نہیں دے گی اور جب کان پورے طور پر کسی آواز کے سننے میں مصروف ہوں تو ناک کی سونگھنے کی قوت معطل ہو جائے گی ۔ اور جب ناک پوری طاقت کے ساتھ کسی خوشبو کے سونگھنے میں لگا ہوا ہو گا تو کان اور آنکھیں اپنا کام کرنے سے معطل ہو جائیں گی۔ تو جب ایک جس کام میں لگ جاتی ہے اور اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے تو دوسری حسیں کام نہیں کرتیں۔ لیکن جب ساری حسیں بے کار ہوں اور کوئی بھی اپنے کام میں مشغول نہ ہو تو یہ نقص پیدا ہو جاتا ہے کہ مختلف خیالات جوش میں آجاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ جب ایک حس کام کر رہی : رہی ہو تو دوسری حسوں سے تعلق رکھنے والے خیالات نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حس دوسرے خیالات کے آنے کو روک دیتی ہے۔ پس نماز پڑھتے وقت جب آنکھیں اپنا کام کر رہی ہوں گی اور دیکھنے میں مشغول ہوں گی تو متفرق خیالات ذہن میں نہیں آئیں گے ۔ یہ امر آج ایک طبعی تجربہ کے بعد معلوم ہوا ہے لیکن دیکھو اس طبعی حکمت کو مدنظر رکھ کر آج سے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم اللہ نے نماز پڑھتے وقت آنکھیں کھلی رکھنے کا ارشاد فرمایا ہوا یہ بھی مدنظر رکھا ہے کہ وہ کونسی حس ہے جو کام میں لگ جائے تو متفرق ہے۔ پھر آپ نے یہ والثلاثون في وصف صلاة | هل القرب جلد ۲ صفحه ۱۵ ب عوارف المعارف الباب السائح و الـ