انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 523

وم جلد ۳ ۵۲۳ ذکرالی کرلے۔کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے اسے خیالات عموماً اسی وقت ہی آکر ستاتے ہیں جبکہ پہلا کام ختم ہونے کو ہو اور دوسرے کے شروع کرنے کا ارادہ ہو جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں ابھی فارغ نہیں ہوا بلکہ ابھی سنتیں پڑھنی ہیں تو پھر اس کے خیالات دبے رہتے ہیں اور سنتوں کے مقرر کرنے کی حکمتوں میں سے یہ ایک بہت بڑی حکمت ہے۔چنانچہ رسول کریم نے اوقات کے اختلاف کی مناسبت سے سنتیں بھی مقرر کی ہیں۔ظہر کی نماز کا وقت چونکہ دوسرے کاموں میں بڑی مصروفیت کا وقت ہوتا ہے اس لئے چار یا دو سنتیں پہلے اور دویا چار بعد میں رکھ دیں۔گویا فرضوں کی حفاظت کے لئے یہ دو سپاہی مقرر کر دیے کہ ان میں جو خیالات آنا چاہیں انہیں روک دیں۔عصر کی نماز سے پہلے سنتیں نہیں رکھیں ہاں نفل رکھے ہیں۔کوئی چاہے پڑھے یا نہ پڑھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عصر کے وقت ایک لحاظ سے انسان دو سرے کاموں سے فارغ ہو جاتا ہے۔دوسرے چونکہ سب کام ختم کرنے کا وقت ہوتا ہے اس لئے اس وقت تھوڑی نماز رکھی ہے۔مگر عصر کے بعد سے مغرب تک ذکر رکھ دیا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بتا آیا ہوں مغرب کی نماز سے پہلے سنتیں اس لئے نہیں رکھیں کہ وقت بہت تنگ ہوتا ہے ہاں بعد میں دو سنتیں رکھ دی ہیں۔کیونکہ نماز مغرب کے بعد عام طور پر کھانا کھایا جاتا ہے اور اسی قسم کے کام ہوتے ہیں۔یہ سنتیں ان مشاغل کے خیالات سے فرائض کی حفاظت کرتی ہیں۔عشاء کی نماز سے پہلے سنن نہیں رکھیں کیونکہ اس نماز سے پہلے جو کام عام طور پر انسان کرتا ہے وہ ایسے نہیں ہوتے کہ ان کا اثر بعد میں بھی قائم رہے۔مگر نوافل رکھ دیئے کہ اگر کوئی چاہے اور ضرورت ہو تو پڑھ لے مگر عشاء کے بعد چونکہ سونے کا وقت ہوتا ہے اور سارے دن کے کام کے بعد طبیعت آرام کی طرف متوجہ ہوتی ہے اس لئے بعد میں دو سنتیں اور تین و تر مقرر کر دیئے ہیں جن میں سے وتر پچھلے وقت میں بھی ادا کئے جاسکتے ہیں۔صبح کی نماز سے پہلے دو سنتیں رکھی گئی ہیں کیونکہ نیند سے اٹھنے کی وجہ سے نماز میں غفلت نہ ہو۔وہ سنتیں غفلت اور نیند کے خیالات کو روک دیتی ہیں۔بعد میں سنتیں نہیں رکھیں کیونکہ بعد میں سورج نکلنے تک کے عرصہ میں کوئی خاص کام نہیں ہو سکتا ہاں ذکر رکھ دیا۔یہ تو وہ ہیں جو شریعت نے نماز میں توجہ قائم رکھنے کے لئے نماز کے ساتھ وابستہ کر دیئے ہیں۔لیکن ان سے فائدہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب انسان ان کو سمجھنے کی کوشش بھی کرے۔اسی لئے میں نے ان کو بیان کیا ہے تاکہ آپ لوگ اس سے واقف ہوں اور فائدہ اٹھا ئیں اور انشاءاللہ تعالیٰ