انوارالعلوم (جلد 3) — Page 510
انوار العلوم جلد - ۳ ۵۱۰ ذکرالی چاہئے کہ وہ اس لئے مقرر کی گئی ہیں کہ فرائض کے ادا کرنے میں جو کمی یا نقص رہ جائے اسے پورا کر دیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ناقص نماز قبول نہیں کرتا بلکہ کامل قبول کرتا ہے۔اور اگر نقص ہو تو سنتوں میں سے پورا کر دیتا ہے مثلاً کسی نے ایک نماز پڑھی۔مگر ایک رکعت میں اس کی توجہ قائم نہ رہی اور مختلف قسم کے وساوس پیدا ہوتے رہے اس لئے وہ رکعت قبول نہ ہوگی۔اس کے بدلہ میں سنتیں رکھ دی جائیں گی تاکہ نماز مکمل ہو جائے۔رسول کریم ال چونکہ انسان کے قلب کی کیفیت کو خوب جانتے تھے اور سمجھتے تھے اس لئے آپ نے فرائض کے ساتھ سنتیں اپنی طرف سے لگا دیں تاکہ فرائض کی کمی کو پورا کر دیں اور یہ آپ نے اپنی امت پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔اب نوافل باقی رہے وہ خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہوتے ہیں۔یعنی نوافل کی فضیلت نجات کے علاوہ اعلیٰ مدارج حاصل کرنے کا موجب بنتے ہیں پس جو شخص خدا تعالیٰ کا قرب چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ نوافل پڑھنے پر بہت زور دے۔پھر نوافل بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔بعض دن میں پڑھے جاتے ہیں اور بعض رات کو۔جو رات کو پڑھے جاتے ہیں۔ان کو تہجد کہتے ہیں اور یہ زیادہ اہم ہوتے ہیں اور ایسے اعلیٰ کہ خدا تعالی نے قرآن کریم میں ان کی فضیلت اس طرح بیان فرمائی ہے۔اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ وطئًا وَا قَوْمُ قِيلاً (المزمل : (۶) کہ انسان کے نفس کے درست کرنے کے لئے رات کا اٹھنا بہت بڑا ذریعہ ہے۔پس اگر کوئی شخص تجربہ کر کے دیکھے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ کس طرح نفس کی بہت بڑی وسیع اصلاح ہو جاتی ہے اور خاص قوت اور طاقت حاصل ہوتی ہے۔صحابہ کرام ان پر خاص طور پر مداومت رکھتے تھے۔اور رسول کریم ﷺ کو ان نوافل کا اتنا خیال تھا کہ باوجود ان کے نفل ہونے کے آپ رات کو پھر کر دیکھتے کہ صحابہ میں سے کون یہ نفل پڑھتا ہے اور کون نہیں پڑھتا۔ایک دفعہ آپ کی مجلس میں عبد اللہ بن عمرہ کا ذکر آیا کہ وہ بہت اچھا ہے اس میں یہ خوبی ہے یہ صفت ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں بڑا اچھا ہے بشرطیکہ تجد پڑھے۔چونکہ عبداللہ بن عمر جوان تھے اور تہجد پڑھنے میں سستی کرتے تھے اس لئے آپ نے اس طرح ان کو اس طرف توجہ دلائی۔پھر رسول کریم ا نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی کا اس میاں اور بیوی پر رحم ہو کہ اگر رات کو میاں کی آنکھ کھلے تو اٹھ کر تہجد پڑھے اور بیوی کو جگائے کہ تو بھی اٹھ کر تہجد پڑھ۔اور اگر بیوی نہ جاگے تو پانی کا چھینٹا اس کے منہ پر مارے اور بخاری کتاب التهجد باب فضل قیام اللیل