انوارالعلوم (جلد 3) — Page 509
انوار العلوم جلد ۵۰۹ وقت قبول ہوتی ہے جبکہ عبادت سمجھ کر کی جائے۔ذکر الهی پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ذکر کرنے کے لئے کچھ دن تو قبض رہتی ہے اور کچھ دن طبیعت کھل جاتی ہے۔ایسے لوگوں کو بھی گھبرانا نہیں چاہئے۔قبض ہر قسم کے لوگوں کو ہوتی ہے۔ایک دفعہ ایک صحابی رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور آکر کہا کہ حضور میں منافق ہوں۔آپ نے فرمایا نہیں تم تو مسلمان ہو۔اس نے کہا حضور جب میں آپ کے سامنے آتا ہوں تو جنت اور دوزخ میری آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور جب گھر جاتا ہوں تو پھر وہ حالت قائم نہیں رہتی۔آپ نے فرمایا اگر وہی حالت ہر وقت قائم رہے تو مر جاؤ۔(مسلم کتاب التوبة باب فضل دوام الذكر و الفکر فی امور الآخرة، اصل بات یہ ہے کہ اگر ہر وقت ایک ہی حالت رہے۔تو پھر بڑھنے اور ترقی کرنے کی طاقت سلب ہو جاتی ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کبھی تو اصل حالت سے نیچے کر دیتا ہے تاکہ انسان کود کر پہلے سے بھی آگے بڑھ جائے۔اور کبھی اوپر چڑھا دیتا ہے۔ہاں قبض کے متعلق ایک خاص بات یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ ایک قبض اچھی ہے اور ایک بری۔اور ان کا پتہ اس طرح لگ سکتا ہے کہ ذکر کرنے کے متعلق لذت آنے کا ایک درجہ مقرر کر لیا جائے مثلاً ایک درجہ ہے اس سے اوپر ۲ ۳ ۴ ۵ درجے ہیں۔اب اگر کوئی شخص دو درجہ پر ہے۔اور قبض اسے لے جاتی ہے ایک درجہ پر۔تو سمجھنا چاہئے کہ انعام دلانے والی قبض ہے۔لیکن اگر تین درجہ پر ہو اور پھر قبض ہو۔تو دیکھنا چاہئے اب قبض دو درجہ پر لے گئی ہے۔یا ایک پر یا بالکل صفر پر۔اگر دو درجہ پر ہو تو سمجھنا چاہئے کہ ترقی ولانے والی ہے اور اگر ایک پر یا صفر کے درجہ پر ہو تو پھر خطرے کا مقام ہے اس کے لئے خاص سعی اور کوشش کرنی چاہئے۔اب میں نماز کے متعلق بتاتا ہوں۔یہ سب سے زیادہ ضروری اور اہم ذکر ہے۔ہے کیونکہ ذکر نماز اس میں کبھی انسان کھڑا ہو کر ذکر کرتا ہے اور کبھی رکوع میں، کبھی سجدہ میں کبھی بیٹھ کر ، پھر نماز میں قرآن کریم پڑھتا ہے۔اور اس کے علاوہ اور اور اد بھی کرتا ہے۔پس نماز سب ذکروں کی جامع ہے۔پہلے میں نے اس کے متعلق بیان کرنا اس لئے چھوڑ دیا تھا کہ بہت تفصیل چاہتی ہے۔لیکن اب بیان کرتا ہوں۔نماز کے تین حصے ہیں (۱) فرض (۲) سنن (۳) نفل۔فرض اور سنن تو سب لوگ ادا کرتے ہیں باقی رہے نوافل ان کے ادا کرنے میں اکثر سستی کرتے ہیں۔سنتوں کے متعلق تو یاد رکھنا