انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 501

انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۰۱ ذکرائی کے محافظ ہیں۔ قرآن کریم کے نازل کرنے کو ذکر کا نازل کرنا قرار دیا ہے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ جہاں خدا تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ اذْكُرُوا اللہ تو اس کے ایک یہ معنی بھی ہیں کہ قرآن پڑھا کرو۔ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَ هَذَا ذِكْرٌ مُبَارَكَ انْزَلْنَهُ ، أَفَانْتُمْ لَهُ مُنكِرُونَ الانبیاء : ۵۱) اس آیت میں بھی قرآن کریم کو پیش کر کے فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے لئے یہ ذکر نازل کیا ہے کیا پھر بھی تم اس کا انکار کرتے ہو۔ تیرا ذکر صفات الہیہ کا بیان ان کا تکرار اور ان کا اقرار ہے۔ اب میں اس کا ثبوت قرآن کریم سے دیتا ہوں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نماز میں جو صفات اللہ بیان کی جاتی ہیں وہی کافی ہیں۔ لیکن یہ غلط ہے نماز کے علاوہ بھی ذکر الہی ہوتا ہے اور اس کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلوةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِكُمُ (النساء : (۱۰۴) کہ جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کا ذکر کرو۔ کھڑے ہونے کی حالت میں بھی بیٹھنے کی حالت میں بھی۔ اور لیٹے ہونے کی حالت میں بھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر نماز کے علاوہ ہے کیونکہ نماز میں ہی اگر صفات اللہ کا بیان کرنا کافی ہوتا تو پھر خدا تعالیٰ یہ کیوں فرماتا فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلوةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَ قُعُودًا وَ عَلَى جُنُو بِكُمْ کہ جب تم نماز پڑھ چکو تو پھر اللہ کا ذکر کرو ۔ کھڑے ہو کر بیٹھ کر ، لیٹ کر۔ کر۔ پھر فرماتا ہے رِجَالٌ لا لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلوةِ وَإِيتَاءِ الزَّكوةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ (النور : (۳۸) اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ محمد اللہ کے ساتھی ہیں کہ ان کو خرید و فروخت اللہ کے ذکر کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے سے نہیں روکتی کیونکہ وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جبکہ آنکھیں اور دل منقلب ہو جائیں گے ۔ یہاں نماز کے علاوہ ایک ذکر اللہ بیان فرمایا ہے۔ چوتھا ذکر یہ فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو علی الاعلان لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے۔ اس کا ثبوت یہ ہے يَا يُّهَا الْمُدَّثِرُه قُمْ فَانْذِرُ ، وَ رَبَّكَ فَكَبِّرُ وَ ثِيَابَكَ فَطَهَرُه وَالرُّجْزَ فَاهُجُرُ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُه (المدر ۲-۸) ان آیات میں رسول کریم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ کھڑا ہو جا اور تمام لوگوں کو ڈرا دے۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی بڑائی لوگوں کے سامنے بیان کرنا