انوارالعلوم (جلد 3) — Page 500
ذکراتی غرض یہ سب قسمیں ممنوع اور ناجائز ہیں۔اور ان کو جس قدر یہ سب باتیں ممنوع ہیں بھی برا کہا جائے درست ہے کیونکہ یہ روحانیت تباہ کرنے اور انسانوں کو بندر اور ریچھ بنانے والی باتیں ہیں۔اسلام تو انسان کو فرشتے بنانے آیا تھا لیکن اس طرح انسان بندر بن جاتے ہیں۔پس یہ باتیں لغو اور فضول ہیں اور ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اور جو واقعہ میں ذکر اللہ ہیں اور جن کا قرآن کریم میں بڑے زور حقیقی ذکر اللہ چار ہیں سے حکم دیا گیا ہے وہ ذکر اور ہیں۔اور وہ چار طرح کے ہیں۔ان کا چھوڑنا بہت بڑے ثواب سے محروم رہنا ہے اس لئے ان کو کبھی ترک نہیں کرنا چاہئے۔ان میں سے پہلا ذکر نماز ہے (۲) قرآن کریم کا پڑھنا (۳) اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان تکرار سے اور ان کا اقرار کرنا اور ان کی تفصیل اپنی زبان سے بیان کرنا (۴) جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات کو علیحدہ اور گوشے میں بیان کرنا اسی طرح لوگوں میں بھی ان کا اظہار کرنا۔یہ وہ چار ذکر ہیں۔جو قرآن کریم سے ثابت ہیں اور جن کا کرنا روحانیت کے لئے نہایت ضروری بلکہ لازمی ہے۔اب میں اس بات کا ثبوت دیتا ہوں کہ ان اذکار کو قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔نماز کے متعلق خدا تعالی فرماتا ہے۔ان أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى (طه: ۱۵) اے انسان میں ہی تیرا خدا ہوں اور میرے سوا تیرا کوئی معبود نہیں۔پس میری ہی عبادت کر اور میرے ہی ذکر کے لئے نماز کو قائم کر۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ جہاں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے مومنو! میرا ذکر کرو تو اس کے ایک معنی یہ ہوئے کہ اے مومنو! نماز پڑھو۔پھر فرماتا ہے فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالا اور كُبَانًا ، اَ۔فَإِذَا مِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَمَا عَلَمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ - (البته : (۲۴۰) نماز پڑھنے کی تاکید کرنے کے بعد کہتا ہے کہ اگر تمہیں دشمنوں سے کسی قسم کا خوف ہے تو خواہ پیادہ ہو یا گھوڑے پر سوار ہو اسی حالت میں نماز پڑھ لو۔اور جب تم امن میں ہو جاؤ تو خدا تعالیٰ کا ذکر اسی طرح کرو جس طرح اس نے سکھایا ہے اور جسے تم پہلے نہیں جانتے تھے۔اس آیت میں نماز کا نام ذکر اللہ رکھا ہے۔اس کے متعلق اور بھی آیتیں ہیں۔مگر اس وقت میں انہیں پر بس کرتا ہوں۔دوسرا ذکر قرآن کریم ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ۔(الحجر: (۱) کہ ہم نے ہی ذکر اتارا ہے اور ہم ہی اس