انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 492

انوار العلوم جلد - ۳ ۴۹۲ ذکرالی بیان کرتے اور اس کی حمد کرتے ہو اسی طرح گھروں سے باہر نکل کر بھی کرو۔چونکہ انہوں نے ستی اور کاہلی کی وجہ سے باہر نکل کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چھوڑ دیا تھا اس لئے ان کو ڈانٹا گیا ہے کہ یہ تو منافقت ہے۔کیونکہ اگر تمہارے دلوں میں خدا تعالی کی سچی محبت اور عشق ہو تا تو کیا وجہ ہے کہ جب مخالفین خدا تعالیٰ پر حملہ کرتے ہیں اس وقت تم باہر نکل کر ان کا دفعیہ نہیں کرتے۔اور کیا وجہ ہے کہ جس طرح تم لوگ گوشوں اور کونوں میں خدا تعالیٰ کو پاک بیان کرتے ہو اسی طرح پبلک سٹیجوں پر نہیں کرتے۔پھر ان کو ڈانٹنے کا یہ بھی باعث ہوا کہ ہر کہ گیر دخلتے علت شود موجودہ صوفیاء کا ذکر الہی کے مطابق ذکر اللہ کو ان صوفیاء اور گدی نشینوں نے ایسے رنگ میں استعمال کیا کہ بگاڑ کر کچھ کا کچھ بنا دیا۔اور اسلام نے جس رنگ میں پیش کیا تھا اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہنے دیا۔چنانچہ اب ذکر اللہ کیا ہے یہ کہ دل سے آواز نکال کر سر تک لے جائی جائے اور اس زور سے چیخا جائے کہ سارے محلہ پر آرام حرام کر دیا جائے اور اردگرد کے سب لوگوں کی عبادت خراب کر دی جائے۔اس کو وہ قلب پر ضرب لگانا کہتے ہیں۔گویا ان کے نزدیک دل ایک ایسی چیز ہے کہ جس میں لا الہ الا اللہ کو زور سے گھیڑا جاتا ہے۔اسی طرح بعض نے یہ طریق نکال رکھا ہے کہ شعر سنتے اور قوالیاں کراتے اور کہنچنیاں نچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ذکر الہی کی مجلس گرم ہو رہی ہے۔پھر دل بہلاتے ہیں کہ اس میں سے اللہ اللہ کی آواز آئے۔غرض عجیب عجیب باتیں ایجاد کرلی گئی ہیں۔کہیں دل بہلائے جاتے ہیں کہیں قلب پر چوٹ لگائی جاتی ہے کہیں روح سے آواز نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ سب نام انہوں نے اپنے آپ ہی رکھ لئے ہیں۔کبھی کہتے ہیں کہ ہم قلب سے ذکر بلند کرتے ہیں اور وہ عرش پر سجدہ کر کے واپس آتا ہے۔کبھی کہتے ہیں کہ ہم جسم کے ہر عضو سے اللہ اللہ کی آواز نکالتے ہیں۔یہ اور اسی قسم کی اور بہت سی بدعات انہوں نے ایجاد کرلی ہیں۔بعض ایسے بھی ہیں جو قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھتے اور ناچتے ہیں۔بعض یوں ذکر کرتے ہیں کہ ایک شخص کچھ اشعار وغیرہ پڑھتا ہے اور دوسرے ناچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وجد آگیا اور غشی طاری ہو گئی۔پھر مجلس میں بیٹھے بیٹھے یک لخت بہت اونچی آواز سے اللہ اللہ کہہ کر کود پڑتے ہیں۔تو اس قسم کے عجیب عجیب ذکر نکالے گئے ہیں۔حالانکہ ان کو مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ذکر الہی کوئی بری چیز ہے ہاں یہ کہنا چاہئے کہ یہ بدعتیں