انوارالعلوم (جلد 3) — Page 491
انوار العلوم جلد ۳۰ ۴۹۱ ذکر الهی شخص جو فرض نماز کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا ہے اس کی اگر کوئی نماز قبول نہ ہو تو نوافل اس کو کام دے سکیں گے اور اس کمی کو پورا کر دیں گے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی شخص ایسا امتحان دینے کے لئے جائے جس میں پاس ہونے کے لئے صرف پچاس نمبر حاصل کرنے کی شرط ہو اور وہ جا کر اتنے سوال حل کر آئے۔ جن کے پچاس ہی نمبر ہوں اور یقین کرلے کہ میں پاس ہو جاؤں گا۔ یہ اس کی غلطی ہوگی کیونکہ ممکن ہے کہ اس کا کوئی سوال غلط نکل آئے اور اسے پورے پچاس نمبر حاصل نہ ہو سکیں اور وہ فیل ہو جائے۔ اس لئے جو ہو شیار اور سمجھدار طالب علم ہوتے ہیں وہ ایسا نہیں کرتے۔ بلکہ انہیں جو سوال آتے ہوں وہ بھی اور جو نہ آتے ہوں وہ بھی سارے کے سارے حل کر آتے ہیں کہ شاید سب کے نمبر مل ملا کر پاس ہو سکیں۔ پھر اگر کوئی سفر میں چلے اور اندازہ کرلے کہ مجھے اس قدر خرچ درکار ہو گا اور اس قدر اپنے ساتھ لے لے تو بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کا اندازہ غلط نکلتا ہے اور اسے سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ اس لئے ہو شیار اور عقلمند لوگ اندازہ سے کچھ زیادہ لے کر چلتے ہیں تا کہ اتفاقی اخراجات کے وقت تکلیف نہ ہو ۔ تو نوافل اتفاقی اخراجات کی طرح ہوتے ہیں اور نهایت ضروری ہیں اس لئے ان کو ادا کرنے کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔ دوسری وجہ ہماری جماعت کے لوگوں کی ذکر الہی کی طرف پوری توجہ نہ کرنے کی یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے ان نام کے صوفیاء کے رد میں جو اس زمانہ میں پیدا ہو گئے اور جنہوں نے مختلف قسم کی بدعات پھیلا رکھی ہیں بہت کچھ لکھا ہے۔ اور ان کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ تمہارے طوطے کی طرح وظائف پڑھنے کا کچھ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ تم مصلوں پر بیٹھے کیا کر رہے ہو جبکہ اسلام پر چاروں طرف سے حملے ہو رہے ہیں تم کیوں اٹھ کر جواب نہیں دیتے۔ اس طریق سے حضرت مسیح موعود نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے اور واقعہ میں یہ لوگ ندمت کے ہی قابل تھے۔ لیکن بعض لوگوں نے اس سے یہ غلطی کھائی ہے کہ انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ شاید بیٹھ کر خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا ہی لغو ہے۔ حالانکہ اس طرح ذکر کرنا لغو نہیں ہے بلکہ اس کی تو غرض یہ ہے کہ خدا کی تقدیس اور تحمید ہو مگر وہ لوگ چونکہ صرف گھروں میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے اور باہر نکل کر جہاں کہ خدا تعالی کی مذمت ہو رہی تھی کچھ نہیں کرتے تھے اس لئے ان کو حضرت مسیح موعود نے ڈانٹا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم لوگ واقعہ میں خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو اس کی تقدیس اور تحمید بیان کرتے ہو تو جس طرح گھروں میں بیٹھ کر اس کی پاکی