انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 490

ر العلوم جلد ۳ ۴۹۰ ذکرالی خَمْسُ صَلَوَاتِ فِي اليَوم وَاللَّيْلَةِ فَقَالَ هَل عَلَى غَيْرُهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِيَامُ رَمَضَانَ قَالَ هَلْ عَلَى غَيْرُهُ قَالَ لَا إِلا أَنْ تَطَوَّعَ قالَ وَ ذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَوةَ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ لَا اِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ قَالَ فَادْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ وَاللهِ لَا اَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا انْقُصُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَلَحَ إِنْ صَدَقَ - (بخاری کتاب الایمان باب الزكوة من الاسلام رسول کریم ﷺ نے اس کو فرمایا کہ دن رات میں پانچ نمازیں ہیں۔اس نے کہا کیا ان کے سوا اور بھی ہیں۔رسول کریم نے فرمایا نہیں۔لیکن اگر تو نفل کے طور پر پڑھے۔پھر رسول کریم نے فرمایا۔ماہ رمضان کے روزے۔اس نے کہا۔کیا ان کے سوا اور بھی ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں۔مگر جو تو نفل کے طور پر رکھے۔پھر آپ نے فرمایا۔اسلام میں زکوۃ بھی فرض ہے۔اس نے کہا کیا اسکے سوا اور بھی ہے آپ نے فرمایا نہیں۔مگر جو تو نفل کے طور پر دے۔یہ سن کر وہ شخص یہ کہتا ہوا چلا گیا۔کہ خدا کی قسم ہمیں نہ ان میں زیادتی کروں گا نہ کمی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ شخص کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو انسان فرائض کو پوری طرح ادا کر لے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔مگر محتاط اور دور اندیش انسان صرف فرائض کی ادائیگی پر ہی نہیں رہتا بلکہ وہ نوافل میں بھی قدم رکھتا ہے تاکہ اگر فرائض کے ادا کرنے میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو وہ اس طرح پوری ہو جائے۔مثلا دن رات میں پانچ نمازیں ادا کرنا فرض ہے۔ایک ایسا شخص جو یہ نمازیں تو ادا کرتا ہے مگر نوافل نہیں پڑھتا ، ممکن ہے کہ اس کی ایک نماز ایسی ادا ہوئی ہو جو اس کی کسی غلطی کی وجہ سے ردی ہو گئی ہو اور قیامت کے دن اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ایک دفعہ مسجد میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص نے آکر نماز پڑھی۔آپ نے اسے فرمایا پھر پڑھ اس نے پھر پڑھی۔آپ نے فرمایا پھر پڑھ۔اس نے پھر پڑھی تیسری دفعہ آپ نے فرمایا پھر پڑھ اس نے پھر پڑھی۔جب آپ نے چوتھی دفعہ اسے پڑھنے کے لئے کہا۔تو اس نے کہا یا رسول اللہ خدا کی قسم اس سے زیادہ مجھے نماز نہیں آتی آپ بتائیں کس طرح پڑھوں۔آپ نے فرمایا تم نے جلدی نماز پڑھی ہے اس لئے قبول نہیں ہوئی آہستہ پڑھو۔(بخاری کتاب صفة الصلوۃ باب وجوب القراءة للامام والمأموم) تو بعض اوقات ایسے نقص ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے نماز قبول نہیں ہوتی۔لیکن ، رو