انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 474

انوار العلوم جلد ۳۰ جماعت احمد یہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں چلو یا گر جاؤ تم کھڑے نہیں رہ سکتے۔ گویا ایک حملہ اور ایک دھارا ہو رہا ہے۔ اس میں اگر کوئی کھڑا ہو گا تو کچلا جائے گا۔ پس تم یہ مت سمجھو کہ اب ہمیں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو ایسا خیال کرے گا وہ گر جائے گا۔ اس لئے ہر دم اور ہر گھڑی آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ اور جو قربانیاں آج سے پہلے کر چکے ہو آج ان سے بڑھ کر کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ کل ان سے اور پرسوں ان سے بڑھ کر۔ اور ہر دم بڑھتے ہی جاؤ کیونکہ جو قوم کھڑی ہو جاتی ہے وہ گر جاتی ہے۔ دیکھ لو مسلمان جس دن کھڑے ہوئے اسی دن سے گرنے شروع ہو گئے۔ اور جب گرنے شروع ہوئے تو نا امید ہو گئے۔ اور جب نا امید ہوئے تو مٹ گئے۔ تمہارے لئے نا امید ہونے اور سستی دکھانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ کیا تم وہ قوم ہو جو اپنی ترقی اور کامیابی کے لئے اپنی ہمت اور کوشش صرف کر چکی ہے۔ ہرگز نہیں تمہاری تو عمر ابھی چند سال کی ہے۔ تم نے کہاں کسی سے مقابلہ کیا ہے۔ اور کب کسی دشمن سے شکست کھائی ہے کہ نا امید ہو جاؤ ۔ وہ مسلمان جنہوں نے شکست کھائی اور ناامید ہو چکے ہیں وہ وہ ہیں جو حق پر قائم نہیں رہے۔ مگر ہم تو خدا کے فضل سے اس تعلیم پر چل رہے ہیں جو خدا تعالیٰ نے دی ہے۔ پھر دوسرے مسلمانوں کی حالت ہم سے بالکل مختلف ہے۔ کیوں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے ایک بشیر اور نذیر کا مقابلہ اور تکذیب کی ہے اور خدا تعالیٰ یہ فیصلہ کر چکا ہے جو کوئی اس کا مقابلہ کرے گا وہ مٹا دیا جائے گا۔ اور اس کے مقابلہ کی رد میں جو دیوار مکان جو شہر اور جو دیار آئے گا وہ اکھیڑا جائے گا۔ لیکن ہم تو وہ قوم ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کے اس برگزیدہ کی اطاعت کی ہے جس کی فتح کا ڈنکا خدا تعالٰی نے بجانا ہے۔ بس ہم تو ایک ایسی قوم ہیں جس نے گویا ابھی دشمن سے مقابلہ شروع ہی نہیں کیا اور ہمیں اپنی طاقت آزمائی کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ پھر ہم وہ قوم ہیں جس کو کامیاب اور فتح مند کرنے کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے۔ پھر ہمارے چہرے کیوں زرد ہوں اور ہمارے اعضاء کیوں مست ہوں اور ہمارے دل کیوں نا امید ہوں۔ حضرت عمرؓ کی نسبت ایک عجیب واقعہ لکھا ہے ایک موقعہ پر ایک شخص سر ڈالے ہوئے چلا جا رہا تھا۔ آپ نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے مکامارا اور کہا۔ او کم بخت کیا اسلام بند ہو گیا ہے کہ تو اس طرح مغموم اور غمگین شکل بنائے جا رہا ہے۔ میرے دوستو ! یاد رکھو کہ ہماری کامیابی کے لئے خدا تعالیٰ آسمان پر صور پھونک رہا ہے اور ہماری تائید کے لئے فرشتے نازل ہو رہے ہیں۔ اس لئے تمہارے چہروں پر فرحت کے آثار ہونے چاہئیں۔ اور خوشی اور