انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 473

ا العلوم جلد ۳۳۰ ۴۷۳ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں کرنے کا موقعہ ہے اس لئے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔پس اپنے پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کی مدد کرو اور کام کرنے والوں پر اعتراض نہ کرو۔اپنے اندر اطاعت اور فرمانبرداری کی عادت ڈالو۔اطاعت کرنا غلامی نہیں ہوتی بلکہ حقیقی آزادی یہی ہوتی ہے۔آزادی کیا ہوتی ہے یہی کہ تمام لوگ قانون کی اطاعت کرتے ہوں۔بتلاؤ سرحد میں آزادی ہے یا گورنمنٹ کے علاقہ میں بلاشبہ گورنمنٹ کے علاقہ میں ہی آزادی ہے کیونکہ اس میں قانون کی پابندی کی جاتی ہے۔تو اصل آزادی اطاعت میں ہوتی ہے۔ہاں جو اطاعت اندھا دھند کی جائے تو غلامی ہوتی ہے۔لیکن آپ لوگوں نے خدا کے فضل و کرم سے ایسا نہیں کیا اس لئے تمہارا کسی کی اطاعت کرنا غلامی نہیں کہلا سکتا۔پس اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ کون سیکرٹری اور کون پریذیڈنٹ ہے بلکہ اپنے اعمال کی اصلاح کرو۔جو باقاعدہ نمازیں نہیں پڑھتے وہ نمازیں پڑھیں۔جو زکوۃ نہیں دیتے وہ زکوۃ دیں۔جو باوجود استطاعت کے حج نہیں کرتے وہ حج کریں۔پھر تم میں سے ہر ایک مبلغ ہو اور دوسروں کو تبلیغ کرے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ شاید ہماری بات کوئی نہ مانے اس لئے ہم تبلیغ نہیں کرتے۔میں ایسے لوگوں کو کہتا ہوں کہ اگر تمہارے پاس صداقت ہے اور ضرور ہے تو کیا اس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ دوسروں کے دلوں کو جذب کرے ضرور کر سکتی ہے۔اگر تم ہمت اور کوشش سے کام لو۔پھر بعض یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جو دین کی خدمت کرنی تھی کرلی ہے اور جو کچھ سیکھنا تھا سیکھ لیا ہے۔ایک دفعہ میں نے خواجہ کمال الدین صاحب کو ایک بات کے متعلق کہا کہ چونکہ آپ یہاں آکر کچھ سیکھتے اور سمجھتے نہیں اس لئے آپ کو دھوکا لگا ہوا ہے تو اس نے کہا کہ ہم نے جو کچھ سیکھنا تھا سیکھ چکے ہیں اور یہاں پڑھنے کے لئے نہیں آتے۔آپ لوگوں نے دیکھ لیا اس کا کیا انجام ہوا۔پس اس بات کو یاد رکھو کہ جو موقعہ بھی ملے اس میں دین کے سیکھنے کی کوشش کرو۔دیکھو رسول کریم ﷺ کو علم کے بڑھانے کی ضرورت ہے تو اور کون ہے جو اس سے مستغنی ہو چکا ہے۔پس تم آگے سے آگے بڑھو اگر فاتح بنا چاہتے ہو۔کیونکہ فاتح لوگ آگے ہی آگے بڑھتے ہیں ایک مقام پر کھڑے نہیں ہوتے۔اسلام بھی چونکہ ایک فاتح مذہب ہے اس لئے اپنے پیروؤں کا کھڑا رہنا پسند نہیں کرتا اور یہ دعا سکھاتا ہے کہ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یعنی اے ہمارے خدا ہمیں آگے ہی آگے بڑھا۔نیچر سے بھی اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ جو چلنے والی چیز کھڑی ہو جاتی ہے وہ گرنا اور مٹنا شروع ہو جاتی ہے۔روحانیت میں بھی چونکہ یہی قانون کام کرتا ہے اس لئے اسلام کہتا ہے کہ یا تو آگے