انوارالعلوم (جلد 3) — Page v
اداره فضل عمر فاؤنڈیشن اس خزانہ کو جماعت کی آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ الحمد لله زیر نظر مجموعہ میں تزکیہ نفس اور جماعتی ترقی کے لئے مسلسل کوشش اور مجاہدہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے ایک ایسی زریں نصیحت فرمائی جو ہر دور میں ہر احمدی کالائحہ عمل اور ماٹو ہونا چاہئے۔ آپ فرماتے ہیں۔ ہمارا کام کوئی چھوٹا سا کام نہیں ہے اگر کسی ایک آدمی یا ایک شہر یا علاقہ کے لوگوں کے عقائد خراب ہوتے تو کوئی بڑی بات نہ تھی لیکن یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔ ساری دنیا کے۔۔۔۔۔۔ ایمان میں تزلزل آچکا ہے اور ان کو درست کرنا ہمارا فرض ہے کیا اتنے بڑے کام کے ہوتے ہوئے ہم سستی اور غفلت سے کام لے سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ جتنا بڑا کام ہے اتنی ہی زیادہ ہمیں تیاری کرنی چاہئے ۔ یاد رکھو کہ تمہیں اس مقابلہ میں اچانک اور جھٹ پٹ فتح نہیں حاصل ہو جائے گی بلکہ تمہیں ایک ایک صوبہ ایک ایک علاقہ ایک ایک شہر ایک ایک گاؤں ، ایک ایک گلی ایک ایک گھر بلکہ ایک ایک فٹ اور ایک ایک انچ کے لئے لڑنا ہو گا اور شیطان سے مقابلہ کرکے اسے شکست دینی پڑے گی۔ تب جا کر فتح کا منہ دیکھو گے اور خدا تعالیٰ کے حضور میں سرخرو ہو گے اور اس کے محبوب اور پیارے ہو جاؤ گے اور اس کے انعامات کے وارث ٹھرو گے۔ پس اپنی کمروں کو کسی لو اور سینوں کو تان لو اور آج ہی سے نئے انسان بن جاؤ۔ آج کے دن کی شام تم کو وہ انسان نہ دیکھے جو صبح نے دیکھا اور کل کی صبح تمہیں اس حالت میں نہ پائے جس حالت میں آج کی شام نے پایا ۔ ہر لحظہ اور گھڑی تمہارے اندر نیا جوش اور نیا ولولہ پیدا کرے اور ہر منٹ تمہارے اندر اور زیادہ ہمت پیدا کرے۔ ( جماعت احمدیہ کے فرائض صفحہ ۷۲ تا ۷۴) اس جلد کی تیاری کے مختلف مراحل میں بہت سے بزرگان اور مربیان سلسلہ نے ولی محبت اور عقیدت سے خدمات انجام دیں ہیں۔ خاکسار ان کا احسان مند ہے اور دعا گو ہے کہ خدا تعالیٰ ان کے علم و معرفت میں برکت ڈالے اور بے ان برکت ڈالے اور بے انتہاء فضلوں اور ر وں اور رحمتوں سے نوازے۔ سے نوازے۔ (آمین) ابتداء سے ہی اس کام میں ہمارے ساتھ شامل ہیں۔ پروف ریڈنگ اور مسودات کی اصلاح کے سلسلہ میں انہوں نے ہمہ تن اپنے آپ کو وقف