انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 472

انوار العلوم جلد ۳۰ ۴۷۲ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں فلسفہ کی مٹی کے پیچھے سائنس دان سائنس کے ذریعہ سے علم آثار قدیمہ کے ماہر مٹے مٹائے نشانات کو لے کر اور ہیئت دان ہیئت کے ذریعہ سے اسلام پر حملہ کر رہے ہیں۔ غرضیکہ شیطان نے تمام ذرائع سے حملہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ پس ایسے موقعہ پر اگر ہم آپس میں اتفاق اور اتحاد قائم نہ رکھیں اور جان اور مال کو خدا کی راہ میں صرف کرنے کے لئے ایسے تیار نہ ہو جائیں کہ یا تو فتح حاصل کریں گے یا موت سے بغل گیر ہو جائیں تو فتح کی کیا امید ہو سکتی ہے۔ میں اب آپ لوگوں کے لئے اور اپنے لئے دعا کرتا ہوں۔ اور اس نیت سے کرتا ہوں کہ خدا تعالٰی ہمیں عمل کرنے کی توفیق دے۔ اگر آپ لوگ بھی یہی ارادہ کر کے دعا کریں گے تو خدا تعالی ضرور تمہاری مدد کرے گا۔ ہاں میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی تم سے لڑائی جھگڑا کرتا یا تم پر سختی کرتا ہے تو اسے برداشت کرو۔ اس کا جواب نہ دو کیونکہ اس طرح جھگڑا بڑھتا اور فتنہ پھیلتا ہے۔ مجھے لکھو میں خود اس کا انتظام کروں گا۔ پھر تم لوگ اپنی اپنی مقامی جماعت کے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ کی مدد کرو۔ کمزوروں کو اپنے ساتھ ملا کر زور دار بناؤ۔ اور سنتوں کی ستی دور کر کے دین کے کام میں شامل کر لو۔ جب اس طرح کرو گے تو خدا تعالیٰ کے انعامات کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے۔ اور خدا تعالیٰ کے انعام اس قدر وسعت رکھتے ہیں کہ کوئی انسان ان کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ آپ لوگوں کو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی بڑی امیدیں دلائی ہیں۔ وہ سب پوری ہو جائیں گی۔ پھر اس سے بڑھ کر تمہیں اور کیا چاہئے کہ وہی انعام جو صحابہ کرام کو حاصل ہوئے تھے وہی تم کو مل جائیں گے۔ پس تمہارے لئے روحانی بادشاہت کے دروازے کھلے ہیں ان میں داخل ہونے کی کوشش کرو۔ اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے اس کے حاصل کرنے کا انتظام کرو۔ پس چاہئے کہ ہر ایک احمدی مبلغ ہو۔ کیونکہ اس زمانہ میں تم ہی خیر امت ہو۔ اگر تم میں سے کوئی تبلیغ نہیں کرتا تو وہ اس امت کا فرد نہیں کہلا سکتا۔ بلکہ یہود امت اور نصاری میں سے ہو گا۔ اسی طرح خیر امت کی یہ بھی علامت ہے کہ اس میں سے ایک خاص گروہ ہو جو دن رات تبلیغ میں ہی لگا رہے اور اس کے اخراجات دوسرے لوگ برداشت کریں۔ پس تم لوگ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے نہ اپنے مالوں اور نہ جانوں سے دریغ کرو تاکہ آج سے بعد دشمن کو تم پر حملہ کرنے کا موقعہ نہ ملے۔ اور نہ دین کے کام رکتے جائیں۔ خدا نے اپنے کام تو کرنے ہیں اور ضرور کرے گا۔ مگر ہمارے لئے یہ ثواب حاصل