انوارالعلوم (جلد 3) — Page 457
۴۵۷ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں قرآن کریم میں بہت بڑا زور خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دیا گیا ہے۔مگر بار جود اس کے آج مسلمانوں میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو کہتا ہے کہ جس قدر مخلوق ہے وہ سب خدا ہی خدا ہے۔مسلمانوں ، فقیروں اور صوفیوں میں چلے جاؤ یہی کہیں گے کہ ہر ایک چیز خدا ہے اور ہر ذرہ خدا ہے اس کو وہ وحدت الوجود کا مسئلہ کہتے ہیں۔لیکن اس سے تو ایمان بالکل ضائع ہو جاتا ہے۔کیونکہ ان کے نزدیک ایک چور اور بد کار انسان بھی خدا ہے، نجاست اور پاخانہ بھی خدا ہے اینٹ اور پتھر بھی خدا ہے۔لیکن میں پوچھتا ہوں کہ سبح اسم ربك الأعلیٰ کا بھی مفہوم اور یہی منشاء ہے ؟ اصل بات یہ ہے جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔اور ابتدائی زمانہ کے صوفیاء بھی اس کو مانتے تھے کہ ہر ایک چیز اور ہر ایک ذرہ میں خدا تعالیٰ جلوہ گر ہے۔لیکن اس زمانہ کے صوفیوں نے اپنی نادانی اور جہالت کی وجہ سے اس کے یہ معنی کرلئے ہیں کہ ہر ایک چیز خدا ہے۔مگر درست یوں ہے کہ ہر ایک چیز میں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے۔یعنی ہر ایک چیز اور ہر ذرہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر دلالت کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود بھی فرماتے ہیں۔چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بیکل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا چاند جمال یار کا مظہر تو ہے مگر خدا نہیں تھا۔خدا تعالٰی نے بھی قرآن کریم میں اس بات کو اس طرح بیان فرمایا کہ اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِى فِى الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لَايْتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ) (البقرہ - ۱۶۵) یعنی زمین و آسمان کی ہر ایک چیز خدا تعالیٰ پر دلالت کرتی ہے۔مگر عقلمندوں کے نزدیک اور انہیں کے لئے یہ نشانیاں ہیں۔آج کل کے مسلمانوں کو دیکھو۔وہ گندی سے گندی چیز کو خدا بنا رہے ہیں۔اور یہ عقیدہ اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ لاکھوں لاکھ انسان اس عقیدہ کے پابند ہیں۔پھر خدا تعالیٰ کے شریک کمزور اور ناتواں انسان قرار دیئے جاتے ہیں۔قرآن کریم کہتا ہے - NANGANATAN ANLAN هُوَ ( البقرہ : (۲۵۶) مگر آج مسلمان کہتے ہیں کہ اور بھی اللہ ہیں۔کیا مسلمانوں میں سے وہ لوگ نہیں ہیں جو بغداد کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور اسے پیر جیلانی کی نماز کہتے ہیں۔اور پھر کیا ایسے لوگ نہیں ہیں جو ان کو خدا سے بھی بڑھ کر طاقت اور قدرت رکھنے والا سمجھتے ہیں۔کشمیر میں میں نے