انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 456

ا تعلوم جلد - - ۴۵۶۰ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں لفظ بولنے سے میں نے یہ سمجھا کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کہنا چاہتا ہے مگر کہہ نہیں سکتا۔مکہ میں جاکر وہ بیمار ہو گیا اور اس کے پاس خرچ بھی نہ تھا۔لیکن وہ مدینہ جانا چاہتا تھا میں نے سمجھایا کہ وہاں نہ جاؤ کہیں راستہ میں ہی مرجاؤ گے۔لیکن وہ کہتا کہ میرے بیٹوں نے مجھے کہا ہوا ہے کہ جب تک تم مدینہ نہ جاؤ گے تمہارا حج نہیں ہوگا اس لئے میں ضرور جاؤں گا۔معلوم نہیں وہ گیا یا نہ گیا۔لیکن اس کی اسلام سے واقفیت کو دیکھو۔کہ حج کو گیا اور اسلام کی خبر تک پھر ہندوستان میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں کے لوگ کہلاتے تو مسلمان ہیں لیکن اپنے گھروں میں بت رکھے ہوئے ہیں اور صبح اٹھ کر ان کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔یہ حالت ہے آج کل کے مسلمانوں کی۔اور یہ مت سمجھو کہ ایران ، مصر اور عرب کے لوگوں کی اس سے اچھی ہوگی۔ہندوستان کے رہنے والوں کی حالت ان سے ہزار درجہ اچھی ہے۔میں نے مصر کے شہر پورٹ سعید کی جامع مسجد میں دیکھا ہے کہ امام نماز پڑھا رہا تھا اور اس کے پیچھے کوئی دس پندرہ آدمی کھڑے تھے۔میں نے اپنے گائیڈ سے پوچھا کہ کیا اسی قدر مسلمان یہاں نماز پڑھتے ہیں تو کہنے لگا کہ جمعہ کے دن بہت سے آجاتے ہیں۔اس وقت نمازیوں کو دیکھنا چاہئے۔وہاں کے بڑے بڑے مشہور و معروف مولوی شراب پیتے اور اس سے کوئی پر ہیز نہیں کرتے۔شیخ عبدالرحمن صاحب جب مصر میں تھے۔تو انہوں نے مجھے لکھا تھا کہ ایک بڑے عالم نے میری باتوں سے متاثر ہو کر شراب چھوڑنے کا ارادہ کیا ہے اور اب وہ طریق پوچھتا ہے کہ کس طرح چھوڑوں۔غرض مسلمانوں کی عملی حالت یہ ہے اور اس کی تصدیق تم اپنے گاؤں اپنے شہروں اور اپنے محلوں کے لوگوں کو دیکھ کر کر سکتے ہو۔باقی رہے ان کے اعتقادات ان کے متعلق میں مختصراً بتاتا ہوں۔ان کو سن کر رونا آتا ہے۔قرآن کریم جس خدا کو پیش کرتا ہے وہ ایسا خدا ہے کہ جس کی طرف کوئی بدی منسوب نہیں کی جا سکتی۔وہ سب نقصوں اور عیبوں سے پاک اور ہر قسم کی کمزوریوں سے منزہ ہے اور قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ سبح اسم ربك الأعلى - اے مسلمانو ! اپنے رب کی تسبیح کرو۔مگر آج وہ حالت ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی نسبت وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ جن کو سن کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔